روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نئی جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں اور مجوزہ انتظام میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہوگی۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق روسی میڈیا نے اس اطلاع کے لیے ایران اور پاکستان کے ذرائع کا حوالہ دیا، تاہم دونوں حکومتوں کے کسی نامزد عہدیدار کا براہِ راست بیان رپورٹ میں شامل نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اس کے بعد مذاکرات اور تکنیکی سطح کے اجلاس منعقد کیے جانے کی بات بھی کی گئی ہے تاکہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جاسکے۔ یہ تمام نکات روسی میڈیا کے دعوے کے طور پر سامنے آئے ہیں، کسی جاری یا نافذ معاہدے کے سرکاری متن کے طور پر نہیں۔
ایکسپریس اردو کے مطابق جون کے وسط میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا بتایا گیا، مگر ایک ماہ سے بھی کم مدت میں دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی۔ گزشتہ چند ہفتوں میں مختلف ثالثوں کے ذریعے نئی جنگ بندی کے لیے رابطوں اور مذاکرات کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔
رپورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ردعمل کا بھی ذکر کیا۔ یہ بیانات فریقین کے اپنے مؤقف ہیں اور نئی جنگ بندی کے دعوے کی آزاد سرکاری تصدیق نہیں بنتے۔
اہم بات یہ ہے کہ خبر شائع ہونے تک امریکا یا ایران نے روسی میڈیا کے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔ اس لیے اسے حتمی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کے عملی طور پر کھل جانے یا معاہدے کے نافذ ہونے کی تصدیق نہیں سمجھا جاسکتا۔ باضابطہ اعلان، شرائط اور نفاذ کی صورتِ حال متعلقہ حکومتوں کے سرکاری بیانات سے واضح ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




