ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ڈان نے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی پیر کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی اور حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اس گروہ سے بتایا گیا جسے ریاستی ادارے فتنہ الخوارج کہتے ہیں، اور یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ کارروائی کے بعد دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ افغان کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ ان تفصیلات کی بنیاد سرکاری میڈیا اور سکیورٹی ذرائع ہیں؛ واقعے کے بارے میں کسی آزاد تفتیش یا دوسری فریق کی تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔
ڈیرہ اسماعیل خان حالیہ مہینوں میں متعدد دہشت گرد حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ اسی ضلع کی درازندہ تحصیل میں ہفتے کے روز امان میلہ پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل درابن کے علاقے میں پولیس نے ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی مجموعی تعداد میں بھی حالیہ عرصے میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں اگست کے دوران 54 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔ ان اعداد سے صوبے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے، تاہم مختلف اداروں کے ڈیٹا جمع کرنے کے طریقہ کار میں فرق ہو سکتا ہے۔
حکام نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تازہ کارروائی کو انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کی جانب سے ایسے واقعات کے بعد عام طور پر سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں بھی کی جاتی ہیں۔ تازہ کارروائی کے بارے میں مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں ہلاک افراد کی شناخت، برآمد ہونے والے مواد اور ممکنہ نیٹ ورک سے متعلق معلومات واضح ہو سکتی ہیں۔
