ڈیرہ اسماعیل خان: تحصیل درازندہ میں امان میلہ پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے اور بعد ازاں ریسکیو ایمبولینس پر فائرنگ کے دو واقعات میں مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق اور کم از کم 35 زخمی ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور نے بارود سے بھری ٹریکٹر ٹرالی چیک پوسٹ سے ٹکرائی۔

ڈان کے مطابق ابتدائی دھماکے میں 12 افراد جان سے گئے۔ ریجنل پولیس افسر غلام مبشر میکن نے بتایا کہ جاں بحق افراد میں عام شہری اور ایک کسٹمز اہلکار شامل تھے جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار دھماکے میں محفوظ رہے۔ ہلاک ہونے والوں میں مرد، خواتین اور ایک کم عمر بچہ بھی شامل تھا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر ضیاء الدین احمد نے واقعے کو خودکش دھماکا قرار دیا۔ دھماکے سے چیک پوسٹ کا بڑا حصہ تباہ ہوا اور اس کے ساتھ واقع ایک مکان بھی منہدم ہو گیا۔ امان میلہ چیک پوسٹ مغل کوٹ اور درازندہ کے قریب ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع ہے اور پولیس اسے سکیورٹی اور چیکنگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے بعد لاشیں منتقل کرنے والی ایک ایمبولینس پر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس میں دو ریسکیو اہلکار شریف اللہ اور امتیاز جاں بحق جبکہ انیس نامی اہلکار شدید زخمی ہوا۔ حملے کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے متاثرین کی منتقلی اور امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔

ریسکیو سروس کے مطابق 25 سے زیادہ اہلکار، چھ ایمبولینسیں اور ایک فائر وہیکل امدادی کارروائی میں شریک ہوئے۔ بم ڈسپوزل ٹیم کو بھی جائے وقوعہ پر بھیجا گیا تاکہ دھماکے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے مواد کا جائزہ لیا جا سکے۔

سرکاری ریڈیو نے حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسوب کی، تاہم دستیاب رپورٹ میں کسی آزاد ذریعے سے ذمہ داری کی علیحدہ تصدیق شامل نہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری رہنے کی بھی اطلاع دی گئی۔

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکام نے حملے کی مذمت کی اور زخمیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس کے باعث پولیس اور سکیورٹی اداروں نے متعدد علاقوں میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کی ہیں۔