اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے نوکچا علاقے میں دو الگ سکیورٹی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، یہ تفصیلات سرکاری ذرائع ابلاغ اور سکیورٹی ذرائع سے منسوب رپورٹوں میں سامنے آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے دونوں کارروائیوں کو ایک ہی مشترکہ آپریشن کے بجائے الگ واقعات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی جس میں چار افراد ہلاک ہوئے جنہیں سرکاری بیان میں فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گرد قرار دیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل ان افراد کی نقل و حرکت کی نگرانی کی گئی اور بعد میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق موقع سے اسلحہ، گولہ بارود اور افغان کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر موقع پر تصدیق کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی کارروائی حکومت کے عزمِ استحکام فریم ورک کے تحت انسداد دہشت گردی کوششوں کا حصہ تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد ازاں فورسز کی کارروائی کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رہیں گے۔
دوسری کارروائی بلوچستان کے نوکچا علاقے میں رپورٹ ہوئی۔ دی ایکسپریس ٹریبیون نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دو افراد نے مبینہ طور پر ایک خالی واٹر باؤزر کو آگ لگانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی۔ فورسز نے ان کا تعاقب کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں دونوں مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع نے ان افراد کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ قرار دیا اور کہا کہ ان کا این-40 کوئٹہ-تفتان شاہراہ کے مختلف مقامات پر گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات سے بھی تعلق زیر تفتیش تھا۔
رپورٹ کے مطابق نوکچا میں واقعے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کی گئی اور تفتیش کار یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا تازہ واقعہ شاہراہ پر ماضی میں پیش آنے والے تخریبی واقعات سے منسلک ہے۔ اس حوالے سے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، ان پر عائد سابقہ الزامات یا کسی عدالتی کارروائی کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
دونوں واقعات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں مسلح نیٹ ورکس کے خاتمے اور اہم شاہراہوں و آبادیوں کے تحفظ کے لیے جاری رہیں گی، جبکہ ہر واقعے سے متعلق حتمی حقائق متعلقہ تحقیقات اور سرکاری دستاویزات مکمل ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔
