اسلام آباد: دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر مرکزی ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک اہم مرحلہ مکمل کرتے ہوئے گینی کے علاقے سے پوزولان نامی قدرتی مواد کی باقاعدہ نکاسی اور منصوبے کے مقام تک ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ واپڈا کے مطابق اس مواد کو پراسیس کرنے کے بعد مرکزی ڈیم کی رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ، یعنی آر سی سی، میں استعمال کیا جائے گا اور اس کے بعد ڈیم کے بڑے کنکریٹ ڈھانچے کی تعمیر کا اگلا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہوگا۔
پوزولان ایک ایسا قدرتی یا تیار شدہ معدنی مواد ہے جسے سیمنٹ کے ساتھ ملا کر کنکریٹ کی مضبوطی، پائیداری اور حرارتی خصوصیات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بڑے ڈیموں میں آر سی سی کی وسیع مقدار درکار ہوتی ہے، اس لیے منصوبے کے قریب مناسب معیار کے خام مواد کی دستیابی تعمیراتی رفتار اور لاگت دونوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ گینی سے مواد کی باقاعدہ فراہمی شروع ہونا اسی وجہ سے منصوبے کی تعمیر میں ایک عملی سنگ میل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری ارشد مجید مہمند کی ہدایات کے بعد سامنے آئی۔ منصوبہ انتظامیہ نے گینی کے ذخائر سے نکالے جانے والے مواد کی ترسیل کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں تاکہ پراسیسنگ اور آر سی سی کی تیاری کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا جا سکے۔
دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم کے قریب زیر تعمیر ایک بڑا آبی و پن بجلی منصوبہ ہے۔ منصوبے کا مقصد پانی ذخیرہ کرنا، بجلی پیدا کرنا اور دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے انتظام کی صلاحیت بڑھانا ہے۔ اس نوعیت کے منصوبے میں مرکزی ڈیم کی آر سی سی پلیسمنٹ تعمیراتی شیڈول کا بنیادی مرحلہ ہوتی ہے کیونکہ یہی ڈھانچہ پانی کے بڑے ذخیرے کو روکنے کے لیے مرکزی رکاوٹ تشکیل دیتا ہے۔
پوزولان کی نکاسی شروع ہونے کے باوجود منصوبے کی مجموعی تکمیل کے لیے متعدد سول، الیکٹرو مکینیکل اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کے کام باقی رہیں گے۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو پورے منصوبے کی تکمیل کے بجائے مرکزی ڈیم کی تعمیر کے ایک اہم مرحلے کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

