کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا گیا ہے اور دوا ساز صنعت کی 86 ہزار سے زائد ادویات کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے صارفین موبائل فون سے ادویات کو اسکین کر کے ان کی اصلیت اور قیمت سے متعلق معلومات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

وزیر صحت نے یہ بات کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اور ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ دوا ساز کمپنیاں اپنی ادویات اور مصنوعات کی رجسٹریشن کے لیے بھی آن لائن نظام استعمال کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول ایک ایسا عمل جس میں پہلے طویل وقت لگتا تھا اب بعض صورتوں میں 21 دن میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا بنیادی مقصد ادویات کی سپلائی چین میں شناخت اور تصدیق کو بہتر بنانا ہے۔ صارف کی سطح پر اسکیننگ کی سہولت جعلی یا غیر رجسٹرڈ دوا کے خدشے کی جانچ میں ایک اضافی ذریعہ فراہم کر سکتی ہے، جبکہ ریگولیٹر کے لیے مصنوعات کے اندراج اور مارکیٹ میں موجودگی کا ڈیجیٹل ریکارڈ نگرانی کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

مصطفی کمال نے ڈریپ کو مکمل طور پر شفاف اور ڈیجیٹلائزڈ قرار دیا۔ یہ حکومت کا سرکاری مؤقف ہے؛ شفافیت کی مجموعی سطح اور نظام کے عملی اثرات کا آزادانہ جائزہ الگ معاملہ ہے۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ 86 ہزار سے زائد ادویات ٹریک اینڈ ٹریس نظام میں رجسٹر ہونے کی اطلاع دی گئی ہے اور آن لائن پروڈکٹ رجسٹریشن و صارف اسکیننگ کی سہولت موجود ہے۔

پاکستان کی دوا ساز صنعت میں ریگولیٹری منظوری، قیمت، معیار اور جعلی ادویات کی روک تھام مسلسل اہم مسائل رہے ہیں۔ ڈیجیٹل شناخت کا نظام مؤثر تبھی ہوگا جب کوڈنگ اور ڈیٹا درست ہو، مارکیٹ میں فروخت ہونے والی مصنوعات کی نگرانی جاری رہے اور صارف کو اسکین کے نتیجے کی واضح اور قابل اعتماد تشریح ملے۔

حکومت کے لیے اگلا اہم مرحلہ اس نظام کے استعمال کے اعداد و شمار، جعلی یا مشکوک مصنوعات کی نشاندہی اور رجسٹریشن کے اوقات میں حقیقی بہتری کو باقاعدہ طور پر سامنے لانا ہوگا۔ اس سے یہ جانچنا ممکن ہوگا کہ ڈیجیٹلائزیشن انتظامی سہولت سے آگے بڑھ کر ادویات کے معیار اور مریضوں کے تحفظ میں کس حد تک عملی فرق پیدا کر رہی ہے۔