سنگاپور: دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں شمار ہونے والی بائنانس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمپنی اور بلاک چین تجزیہ کاروں کے مطابق حملہ جمعرات کی رات ہوا اور چوری کی بڑی کارروائی تقریباً 20 منٹ کے اندر مکمل ہوئی۔ بعض بلاک چین ماہرین نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز سے جوڑا ہے، تاہم اس نسبت کی حتمی سرکاری تصدیق ابھی تحقیقات سے مشروط ہے۔

بائنانس کے مطابق حملہ آوروں نے ٹرانزیکشن کی منظوری کے نظام میں کمزوری یا ہیرا پھیری کا فائدہ اٹھا کر انٹرنیٹ سے منسلک ایک ایسے والٹ سے رقوم منتقل کیں جو کمپنی کے کنٹرول میں تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ معمول کے حفاظتی کنٹرولز کو بائی پاس کرتے ہوئے اثاثے منتقل کیے گئے۔ واقعے کے بعد بائنانس نے صارفین کے لیے رقوم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر روک دی تاکہ نظام کا جائزہ لیا جا سکے اور مزید غیر مجاز منتقلیوں کو روکا جا سکے۔

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ صارفین کے نقصانات اپنے فنڈز سے پورے کیے جائیں گے۔ واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں قیمتوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا، کیونکہ اتنے بڑے حجم کی چوری نے مرکزی ایکسچینجز کے سکیورٹی نظام اور انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹس کے خطرات پر دوبارہ سوال اٹھا دیے ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اور سیکرٹ سروس تحقیقات میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ ابو ظہبی کا متعلقہ ریگولیٹر بھی صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔ تفتیش کا ایک اہم حصہ یہ معلوم کرنا ہوگا کہ حملہ آوروں نے منظوری کے نظام تک رسائی کیسے حاصل کی، چوری شدہ اثاثے کن بلاک چین پتوں پر منتقل ہوئے اور انہیں منجمد یا بازیاب کرنے کے امکانات کیا ہیں۔

بلاک چین پر لین دین عمومی طور پر قابل مشاہدہ ہوتا ہے، لیکن چوری شدہ کرپٹو اثاثوں کو مختلف والٹس، نیٹ ورکس یا تبادلہ ذرائع کے ذریعے منتقل کر کے ان کی بازیابی مشکل بنائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے بڑے کرپٹو حملوں کے بعد ایکسچینجز، بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فوری رابطہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ واقعہ کرپٹو صنعت کے لیے سائبر سکیورٹی اور صارف تحفظ کا ایک بڑا امتحان ہے۔ حملے کے ذمہ داروں، استعمال ہونے والی تکنیکی کمزوری اور ممکنہ بازیابی سے متعلق حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، اس لیے شمالی کوریا سے تعلق سمیت تمام ذمہ داری کے دعوے تحقیقاتی نتائج کی روشنی میں ہی حتمی سمجھے جائیں گے۔