پشاور: خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے بھر میں کام کرنے والے نگرانی ڈرونز اور اینٹی ڈرون نظام کو سیف سٹی پشاور کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں کے دوران نگرانی، معلومات کے فوری تبادلے اور فضائی خطرات کے خلاف ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
کے پی سیف سٹیز پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈی آئی جی اعجاز احمد نے بتایا کہ پشاور اور دیگر شہروں میں نصب اینٹی ڈرون نظام مرکزی کمانڈ سینٹر سے مربوط کیے گئے ہیں۔ نئے انتظام کے تحت صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیس ڈرون سے حاصل ہونے والی براہ راست ویڈیو مرکزی سینٹر تک پہنچ سکے گی، جس سے سینئر افسران فیلڈ میں جاری کارروائی کی صورتحال کو حقیقی وقت میں دیکھ سکیں گے اور ضرورت کے مطابق آپریشنل معاونت فراہم کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق نظام کا مقصد دشمن یا مشتبہ کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کی بروقت شناخت کے ساتھ انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت بڑھانا بھی ہے۔ جدید اینٹی ڈرون نظام پشاور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں بھی تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ دور دراز اور حساس علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو اینٹی ڈرون گنز فراہم کرنے کا بھی بتایا گیا ہے۔
پولیس نے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کے استعمال اور مقابلے کے لیے خصوصی انسانی وسائل کی ڈویژن بھی قائم کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اہلکاروں کو ڈرون آپریشن، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے، انسداد دہشت گردی، حساس تنصیبات کے تحفظ اور خطرناک آپریشنز میں یو اے وی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند عناصر کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں تبدیلی کے باعث صرف آلات کی خرید کافی نہیں، بلکہ تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ضروری ہے۔
مرکزی نگرانی کے اس ماڈل سے فیلڈ یونٹس اور کمانڈ سطح کے درمیان معلومات کا فاصلہ کم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم صوبے کے بعض علاقوں میں انٹرنیٹ رابطے کی کمی اب بھی ایک عملی رکاوٹ ہے۔ ڈی آئی جی کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سپارکو کے تعاون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو حالیہ برسوں میں دہشت گردی اور نئے تکنیکی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ نئے نظام کی حقیقی افادیت کا انحصار قابل اعتماد رابطے، آلات کی دستیابی، تربیت، سائبر و مواصلاتی تحفظ اور مختلف اضلاع کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پر ہوگا۔ حکام نے اسے پولیسنگ کو زیادہ مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
