اسلام آباد: پاکستان موبائل فون صنعت کو بنیادی اسمبلنگ سے آگے لے جانے کے لیے نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کر رہا ہے، جس میں مقامی ویلیو ایڈیشن کو بتدریج 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا جا رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار اس پالیسی کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ درآمدی پرزہ جات پر انحصار کم ہو، مقامی کمپوننٹ سازی بڑھے اور ملک میں زیادہ قدر پیدا کرنے والی صنعتی سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق موجودہ موبائل مینوفیکچرنگ میں مقامی ویلیو ایڈیشن کا تخمینہ تقریباً 10 سے 20 فیصد ہے۔ مجوزہ پالیسی مقامی سپلائی چین، پرزہ سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معاون صنعتوں کی ترقی کے ذریعے اس شرح میں مرحلہ وار اضافہ چاہتی ہے۔ یہ اقدام 2020 سے 2023 کی سابقہ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کے بعد اگلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت پاکستان میں متعدد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری والی اسمبلنگ و مینوفیکچرنگ سہولتیں قائم ہوئیں۔

رپورٹ میں سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کے مقامی پلانٹس نے 20.08 ملین موبائل ہینڈ سیٹس تیار کیے، جبکہ اسی عرصے میں 2.85 ملین تیار فون تجارتی طور پر درآمد کیے گئے۔ مقامی پیداوار میں تقریباً آٹھ ملین اسمارٹ فون اور 12 ملین ٹو جی فون شامل تھے۔ پی ٹی اے کے اعداد کے مطابق مقامی نیٹ ورکس پر فعال آلات میں اسمارٹ فونز کا حصہ 71 فیصد ہے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں موبائل فون درآمدی بل ڈالر کے لحاظ سے 16.6 فیصد کم ہو کر 417.24 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں تقریباً 500.01 ملین ڈالر تھا۔ تاہم پالیسی کی کامیابی کا انحصار مسابقتی مقامی کمپوننٹ سپلائی چین، نئی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی منتقلی، شرح مبادلہ کے استحکام اور صارفین کی طلب سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔ 50 فیصد کا ہدف ابھی پالیسی سازی کے مرحلے کا مقصد ہے، اسے موجودہ حاصل شدہ شرح نہیں سمجھا جانا چاہیے۔