کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں اور صوبائی حکومت کو توقع ہے کہ منصوبے پر کام جلد شروع کیا جا سکے گا۔ انہوں نے یہ بات وزیراعلیٰ ہاؤس میں چین کے قونصل جنرل فینگ دہینگ سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں سندھ اور چینی اداروں کے درمیان حالیہ حکومتی سطح کے سمجھوتوں پر عمل درآمد بھی زیر بحث آیا۔
صوبائی حکومت کے مطابق سیف سٹی فیز ٹو میں 2,300 سے زیادہ کیمرے نصب کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں تقریباً 870 عمومی نگرانی کے کیمرے، 1,300 ایسے کیمرے شامل ہیں جن میں خودکار نمبر پلیٹ شناخت اور چہرہ شناخت کی صلاحیت ہوگی، جبکہ 80 کیمرے ٹریفک قوانین کے نفاذ کے لیے مختص کیے جانے ہیں۔ یہ تعداد منصوبے کے دوسرے مرحلے سے متعلق ہے؛ مکمل سیف سٹی منصوبے میں تمام مراحل کے اختتام تک شہر کے دو ہزار سے زیادہ مقامات پر تقریباً 10 ہزار کیمروں کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی آبادی اور شہری حجم کے باعث جدید نگرانی اور سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ چین میں ہواوے کے سیف سٹی نظام کے مشاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کے ساتھ مربوط نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ منصوبے کی حتمی لاگت، معاہدے کی شرائط اور فیز ٹو کے آغاز کی قطعی تاریخ ابھی عوامی طور پر بیان نہیں کی گئی۔
چہرہ شناخت، نمبر پلیٹ شناخت اور بڑے پیمانے پر شہری نگرانی کے نظام جرائم کی تفتیش اور ٹریفک انفورسمنٹ میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم ایسے نظاموں کے ساتھ ڈیٹا تحفظ، رسائی کے اختیارات، ریکارڈ رکھنے کی مدت اور غلط شناخت کے امکانات سے متعلق پالیسی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ دستیاب سرکاری بیان میں ان حفاظتی اور پرائیویسی ضوابط کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ان پہلوؤں کی وضاحت بھی اہم ہوگی۔
وزیراعلیٰ اور چینی قونصل جنرل کی ملاقات صرف سیف سٹی منصوبے تک محدود نہیں رہی۔ دونوں جانب نے زراعت میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال، بالخصوص سندھ میں سورج مکھی اور گندم کی پیداوار بڑھانے، اور سکھر بیراج کے باقی گیٹس کی تنصیب تیز کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت مختلف شعبوں میں چینی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔
ملاقات میں سکھر اور چین کے شہر یی چانگ کے درمیان سسٹر سٹی تعلق قائم کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس سے جامعات، اسپتالوں اور دیگر اداروں کے درمیان تعاون کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دونوں فریقوں نے مختلف شعبوں کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ معاہدوں اور تجاویز پر ادارہ جاتی رابطہ برقرار رہے۔
کراچی سیف سٹی منصوبے کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیمروں، مواصلاتی نیٹ ورک، کمانڈ سینٹر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کس طرح مربوط کیا جاتا ہے۔ فیز ٹو کے معاہدے کی تکمیل کے بعد خریداری، تنصیب، آزمائش اور آپریشن کے مراحل منصوبے کی رفتار اور کارکردگی کے اصل پیمانے ہوں گے۔

