اسلام آباد: پاکستان نے موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ میں مقامی ویلیو ایڈیشن کو بتدریج 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار ایک نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی کا جائزہ لے رہی ہے جس کا مقصد صرف درآمدی پرزوں کی اسمبلی سے آگے بڑھ کر مقامی کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اور زیادہ قدر پیدا کرنے والی صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق اس وقت موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ میں مقامی ویلیو ایڈیشن تقریباً 10 سے 20 فیصد کے درمیان تخمینہ کیا جاتا ہے۔ نئی پالیسی میں مقامی سپلائی چین، پرزہ جات کی تیاری، ٹیکنالوجی منتقلی اور معاون صنعتوں کے قیام کے ذریعے اس تناسب کو وقت کے ساتھ 50 فیصد تک لے جانے کا تصور شامل ہے۔ یہ ہدف فوری حاصل شدہ نتیجہ نہیں بلکہ زیر تیاری پالیسی کی سمت ہے۔

پاکستان میں مقامی موبائل اسمبلی پہلے ہی درآمد شدہ مکمل ہینڈ سیٹس کے مقابلے میں بڑا حصہ لے چکی ہے۔ رپورٹ میں پی ٹی اے کے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران مقامی پلانٹس نے 20.08 ملین ہینڈ سیٹس تیار کیے، جبکہ اسی مدت میں 2.85 ملین موبائل فون تجارتی طور پر درآمد کیے گئے۔ مقامی پیداوار میں تقریباً آٹھ ملین اسمارٹ فون اور 12 ملین 2G فون شامل تھے۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں موبائل فون درآمدی بل ڈالر کے لحاظ سے 16.6 فیصد کم ہو کر 417.24 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں تقریباً 500.01 ملین ڈالر تھا۔ ستمبر میں ماہانہ بنیاد پر درآمدات بڑھی تھیں، لیکن سالانہ بنیاد پر نمایاں کمی برقرار رہی۔ یہ اعداد مقامی اسمبلی کے بڑھتے کردار کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم مقامی اسمبلی اور حقیقی مقامی ویلیو ایڈیشن کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔

پالیسی کی کامیابی کا انحصار مسابقتی مقامی پرزہ جات کی صنعت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، درآمدی خام مال تک رسائی، شرح مبادلہ اور صارفین کی طلب پر ہوگا۔ 50 فیصد ہدف تک پہنچنے کے لیے صرف ہینڈ سیٹ اسمبلی کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا بلکہ مقامی طور پر تیار ہونے والے اہم کمپوننٹس اور صنعتی مہارت کا حصہ بھی بڑھانا ہوگا۔