اقوام متحدہ: پاکستان نے بحری سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اہم سمندری راستوں اور آبی گزرگاہوں کو لاحق خطرات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی امن پر وسیع اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

بزنس ریکارڈر کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے متعلقہ فورم پر اس مؤقف کا اظہار کیا۔ پاکستانی نمائندے نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بین الاقوامی قانون، ذمہ دارانہ طرز عمل اور انسانی نگرانی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ڈیجیٹل اور خودکار نظام بحری نگرانی اور تحفظ میں مدد دیں مگر نئے خطرات پیدا نہ کریں۔

پاکستان نے اہم آبی گزرگاہوں پر حملوں کی مذمت بھی کی اور کہا کہ ایسے واقعات تجارتی جہاز رانی اور علاقائی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ بحری راستے عالمی سپلائی چین، تیل و گیس کی ترسیل اور اشیا کی تجارت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے کسی بڑے راستے میں رکاوٹ کے اثرات متعلقہ خطے سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت بحری شعبے میں جہازوں کی نگرانی، خطرات کی شناخت، راستوں کی منصوبہ بندی، بندرگاہی انتظام اور ہنگامی ردعمل جیسے کاموں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ تاہم پاکستان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال قواعد، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ اس مؤقف کو کسی مخصوص نئے ہتھیار یا خودکار نظام کی منظوری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان کی معیشت بھی سمندری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے، اس لیے محفوظ بحری راستے اس کے تجارتی مفادات کے لیے براہ راست اہم ہیں۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے عسکری اور سکیورٹی استعمال پر بحث بڑھنے کے ساتھ پاکستان نے بحری سلامتی کے تناظر میں ذمہ دارانہ استعمال اور بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دینے کی بات کی ہے۔