اسلام آباد: پاکستان نے گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 میں اپنی پوزیشن چار درجے بہتر کی ہے۔ عالمی ادارہ برائے دانشورانہ املاک، WIPO، کی سالانہ درجہ بندی معیشتوں کی جدت سے متعلق صلاحیت، ادارہ جاتی ماحول، انسانی سرمایہ، تحقیق، کاروباری نفاست، علم و ٹیکنالوجی کی پیداوار اور تخلیقی نتائج سمیت متعدد اشاریوں کا جائزہ لیتی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تازہ درجہ بندی گزشتہ سال کے مقابلے میں چار مقامات بہتر ہوئی۔ رپورٹ میں پاکستان کو ان معیشتوں میں بھی شامل کیا گیا جن کی جدت سے متعلق کارکردگی ان کی معاشی ترقی یا آمدنی کی سطح کے مقابلے میں نسبتاً بہتر رہی ہے۔ یہ درجہ بندی کسی ایک سرکاری منصوبے یا ایک سال کی سرمایہ کاری کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف ڈیٹا سیٹس اور متعدد ذیلی اشاریوں پر مبنی تقابلی جائزہ ہے۔

گلوبل انوویشن انڈیکس میں بہتری کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے تمام ٹیکنالوجی یا تحقیق کے پیمانوں پر یکساں پیش رفت کی ہے۔ ایسے اشاریوں میں کچھ شعبے مضبوط اور کچھ کمزور ہو سکتے ہیں، اور مجموعی رینک مختلف اجزا کے مشترکہ اثر سے بنتا ہے۔ اسی لیے درجہ بندی کو پالیسی سمت اور بین الاقوامی تقابل کے اشارے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے، نہ کہ ملک کے ہر جدتی شعبے کی مکمل تصویر کے طور پر۔

پاکستان کے لیے جدت کی پائیدار بہتری کا تعلق تحقیق و ترقی کی سرمایہ کاری، جامعات اور صنعت کے روابط، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، دانشورانہ املاک کے تحفظ، نئی کمپنیوں کے لیے سرمایہ اور ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی سے ہے۔ درجہ بندی میں بہتری پالیسی سازوں کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدتی مسابقت کے لیے ان بنیادی شعبوں میں تسلسل ضروری ہوگا۔

WIPO کا اشاریہ عالمی سطح پر پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ممالک کے جدتی ماحول کا ایک معروف تقابلی حوالہ ہے۔ پاکستان کی چار درجے بہتری اس سال کے جائزے میں قابل ذکر پیش رفت ہے، تاہم آئندہ برسوں میں اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے قابل پیمائش تحقیق، کاروباری جدت اور ٹیکنالوجی کی تجارتی سطح پر منتقلی اہم رہے گی۔