اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کے خلاف نگرانی مضبوط کرنے کے لیے 2D بارکوڈ پر مبنی تصدیقی نظام تیار کیا ہے، جسے نومبر کے آخر تک باضابطہ طور پر شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات مصطفی کمال نے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں بتایا کہ اس نظام کے ذریعے صارفین فارمیسی پر اپنے موبائل فون سے دوا کا بارکوڈ اسکین کر سکیں گے۔
وزیر صحت کے مطابق اسکین کرنے پر صارف یہ جان سکے گا کہ دوا اصل ہے یا نہیں، اس کی سرکاری طور پر منظور شدہ قیمت کیا ہے اور اس کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے۔ اس طرح منصوبے کا دائرہ صرف جعلی دوا کی شناخت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قیمت اور ایکسپائری کی بنیادی معلومات بھی براہ راست خریدار کے سامنے آئیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے منصوبے کا رسمی آغاز نومبر کے آخر تک متوقع ہے۔
قومی اسمبلی کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیا نظام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، یعنی ڈریپ، کو جعلی ادویات کی تیاری اور تقسیم میں ملوث عناصر کے خلاف مناسب کارروائی میں مدد دے گا۔ بارکوڈ کے ذریعے دوا کی شناخت اور اس سے منسلک معلومات کی دستیابی ریگولیٹر کے لیے مشکوک مصنوعات کی نشاندہی اور سپلائی چین کی نگرانی میں ایک اضافی ذریعہ فراہم کرے گی۔
اسی اجلاس میں وزیر صحت نے بتایا کہ حکومت مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری میں خود کفالت کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم جعلی ادویات کے حوالے سے پیش کیے گئے منصوبے کا فوری فوکس صارف کو خریداری کے مقام پر تصدیق کی سہولت دینا اور ریگولیٹری کارروائی کے لیے قابل استعمال معلومات فراہم کرنا ہے۔
منصوبے کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بارکوڈنگ ادویات کی سپلائی چین میں کتنی جامع طور پر نافذ ہوتی ہے، فارمیسیوں اور صارفین تک اس کی آگاہی کیسے پہنچتی ہے اور مشتبہ مصنوعات سامنے آنے پر ڈریپ کس رفتار سے کارروائی کرتا ہے۔ حکومت نے فی الحال لانچ کی متوقع مدت اور نظام کی بنیادی خصوصیات پارلیمان کے سامنے بیان کی ہیں؛ ملک گیر نفاذ کی مزید تفصیلات رسمی آغاز کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔

