کراچی: عالمی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے ایک بڑے سکیورٹی واقعے کے بعد کہا ہے کہ تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے فنڈز متاثر ہوئے، جبکہ کمپنی اور اس کے شراکت داروں نے اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ کمپنی نے واقعے کو ایک پیچیدہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں ابتدائی اندازے سے زیادہ مقامات پر سکیورٹی کمزوری یا دراندازی کے آثار سامنے آئے ہیں۔
بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں توجہ ایک متاثرہ لیپ ٹاپ پر مرکوز تھی، تاہم بعد کی جانچ میں اضافی breach points کی نشاندہی ہوئی۔ کمپنی نے حملے کے بعد حفاظتی اقدام کے طور پر بعض ڈپازٹ اور وِدڈرال خدمات عارضی طور پر روک دی تھیں تاکہ مزید غیر مجاز لین دین کا خطرہ کم کیا جا سکے اور متاثرہ نظاموں کی جانچ کی جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلاک چین صنعت کے شراکت داروں اور متعلقہ پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں منجمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بائنانس نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات جاری ہونے کے باعث متاثرہ رقم اور حملے کی تکنیکی نوعیت سے متعلق اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔
بائنانس کی شریک بانی یی ہی کے مطابق کمپنی صارفین کے ہیکنگ سے متعلق نقصانات پورے کرنے کے لیے اپنے وسائل اور صارفین کے تحفظ کے لیے قائم فنڈ استعمال کرے گی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے اب تک کسی نجی والٹ کی پرائیویٹ کی کے براہ راست افشا ہونے کا ثبوت نہیں ملا، تاہم مکمل تکنیکی جائزہ مکمل ہونے تک حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ واقعہ کرپٹو صنعت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ بائنانس یومیہ تجارتی حجم کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز میں شمار ہوتی ہے۔ اتنے بڑے ممکنہ مالی اثر کے حامل سکیورٹی واقعے سے مرکزی ایکسچینجز میں اثاثوں کی تحویل، داخلی رسائی کے کنٹرول، آپریشنل سکیورٹی اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
کمپنی نے صارفین کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ نقصانات کا ازالہ کرے گی اور متاثرہ نظاموں کی اصلاح کے بعد مزید تفصیلات جاری کرے گی۔ بائنانس نے ایک تکنیکی رپورٹ، اپ ڈیٹ شدہ Proof of Reserves اور واقعے کے بعد تفصیلی post-mortem جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، حملہ آوروں کی شناخت اور تمام متاثرہ فنڈز کی حتمی حیثیت کی آزادانہ تصدیق ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اس لیے موجودہ اعداد و شمار کمپنی کے جاری کردہ بیانات اور رپورٹنگ پر مبنی ہیں اور انہیں تحقیقات کے حتمی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

