اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے صارفین کو موبائل فون کے ذریعے دوا کی تصدیق کی سہولت دینے والے نظام کو نومبر 2026 کے اختتام تک باضابطہ طور پر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت فارمیسی پر دوا کے پیکٹ پر موجود دو جہتی، یعنی 2D، بارکوڈ اسکین کرکے اس کی اصلیت معلوم کی جا سکے گی۔
وزیر صحت کے مطابق صارف صرف یہ نہیں دیکھ سکے گا کہ دوا اصل ہے یا نہیں بلکہ نظام منظور شدہ قیمت اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کی بھی تصدیق کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو مشتبہ یا جعلی ادویات کی تیاری اور تقسیم میں ملوث عناصر کے خلاف مناسب کارروائی کے لیے بھی معلومات مل سکیں گی۔ وزیراعظم سے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح نومبر کے آخر تک کرانے کا پروگرام بتایا گیا ہے۔
یہ اقدام ادویات کے لیے پہلے سے جاری فارماسیوٹیکل ٹریک اینڈ ٹریس پالیسی کا صارف سطح پر اہم حصہ ہے۔ ڈریپ نے اکتوبر میں واضح کیا تھا کہ 9 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد پاکستان میں تیار یا درآمد ہونے والی رجسٹرڈ ادویات پر منفرد 2D ڈیٹا میٹرکس بارکوڈ اور سیریلائزیشن لازم ہوگی۔ 9 اکتوبر سے پہلے تیار یا درآمد شدہ بیچز کو اس مرحلے میں استثنا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مقصد سپلائی چین میں ادویات کی شناخت اور سراغ رسانی بہتر بنانا، جعلی اور غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی گردش محدود کرنا اور ضرورت پڑنے پر دوا واپس منگوانے کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ حکومت مقامی ویکسین پیداوار میں خود کفالت کی سمت کام کر رہی ہے۔ تاہم بارکوڈ نظام کے حوالے سے پارلیمان میں دی گئی معلومات میں موبائل ایپ کے حتمی نام، ملک گیر صارف رسائی کی عین تاریخ یا نفاذ کے تمام تکنیکی مراحل کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے نومبر کے آخر کی تاریخ کو باضابطہ لانچ کا حکومتی ہدف سمجھا جا رہا ہے، جبکہ عملی نفاذ ڈریپ، دوا ساز کمپنیوں، درآمد کنندگان اور فارمیسی نیٹ ورک کی تکنیکی تیاری سے بھی منسلک رہے گا۔

