واشنگٹن: امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے چینی ٹیلی کام کمپنیوں اور بعض دیگر انٹرنیٹ پروٹوکول پر مبنی سروس فراہم کنندگان کی امریکی فون نمبرز تک براہ راست رسائی محدود کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس پر کمیشن 19 نومبر کو ووٹ دے گا۔ امریکی حکام نے اس اقدام کو قومی سلامتی اور غیر قانونی روبو کالز کے خلاف حفاظتی اقدامات سے جوڑا ہے۔

رائٹرز کے مطابق مجوزہ پابندی میں چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونی کام شامل ہیں۔ براہ راست نمبر رسائی خاص طور پر وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول یعنی VoIP خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے کم لاگت اور زیادہ سہولت والا راستہ ہوتی ہے، کیونکہ اس سے وہ روایتی ثالثی انتظامات کے بغیر فون نمبرز حاصل کر کے جدید کالنگ خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔

ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نے کہا کہ مجوزہ فیصلہ غیر قانونی روبو کالز اور نقصان دہ عناصر کے خلاف امریکا کی ابتدائی دفاعی سطح کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے IP-enabled سروس فراہم کنندگان پر پابندی کی تجویز ہے جو قومی سلامتی کے خطرے کی فہرست میں شامل کمپنیوں، بشمول ہواوے یا زیڈ ٹی ای، کا سازوسامان استعمال کرتے ہوں۔

کمیشن کے منصوبے کے مطابق چینی لیبارٹریوں کو امریکی الیکٹرانکس کی ٹیسٹنگ سے دسمبر 2028 تک روکنے کا بھی ارادہ ہے۔ مزید برآں، ایسی چینی کمپنیوں کی براہ راست نمبر اجازتیں منسوخ کی جا سکتی ہیں جنہیں امریکی حکام قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھیں۔ یہ اقدامات ابھی مجوزہ مرحلے میں ہیں اور ووٹنگ و متعلقہ ریگولیٹری عمل کے بعد ہی ان کی حتمی قانونی حیثیت واضح ہوگی۔

چینی سفارت خانے نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کی پابندیاں چین اور امریکا کے درمیان معمول کی اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں اور امریکی کمپنیوں اور صارفین کے مفاد میں بھی نہیں۔ چین ماضی میں امریکی سائبر جاسوسی اور سلامتی سے متعلق الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

امریکا اس سے قبل بھی چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونی کام کو بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کرنے سے روک چکا ہے۔ واشنگٹن میں چینی کمپنیوں کی امریکی ٹیلی کام ڈیٹا اور بنیادی ڈھانچے تک رسائی کے حوالے سے خدشات گزشتہ چند برسوں میں بڑھے ہیں، خصوصاً ان سائبر حملوں کے بعد جنہیں امریکی اداروں نے چینی ریاست سے منسلک گروہوں سے جوڑا۔ تازہ تجویز اسی وسیع پالیسی سلسلے کا حصہ ہے جس میں ٹیلی کام نیٹ ورکس، آلات، ڈیٹا اور نمبرنگ سسٹم تک رسائی پر زیادہ سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔