پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک بھر میں موبائل نیٹ ورک کی فیلڈ مانیٹرنگ تیز کرتے ہوئے 22 سے 28 اکتوبر 2026 کے دوران 184 موبائل سائٹس کا معائنہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس تازہ مرحلے کے بعد پی ٹی اے کی نگرانی میں آنے والی موبائل سائٹس کی مجموعی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔

معائنے نانکانہ صاحب، رحیم یار خان، کوئٹہ، راولپنڈی، اسلام آباد، سوات، میرپور، کوٹلی، گلگت، تورغر، جنوبی کراچی، شہید بینظیرآباد اور عارف والا کے دیہی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر کیے گئے۔ پی ٹی اے نے یہ سرگرمی ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں، مقامی فریقوں اور ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ رابطے میں انجام دی تاکہ صارفین کو درپیش سروس مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق فیلڈ ٹیموں نے بجلی کی فراہمی اور بیک اپ میں کمزوری، بعض آلات کی کمی یا خرابی، بیٹری اور جنریٹر کے مسائل، فائبر آپٹک کیبل کی حفاظت سے متعلق خدشات اور دیگر انتظامی و انفراسٹرکچر خامیوں کو ریکارڈ کیا۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے ان خامیوں کے تدارک کے لیے اصلاحی اقدامات پر کام کیا جا رہا ہے۔

یہ معائنہ کسی ایک موبائل آپریٹر کے خلاف جرمانے یا لائسنس سے متعلق کارروائی کا اعلان نہیں ہے۔ دستیاب سرکاری تفصیلات میں کسی کمپنی پر مالی سزا، کسی مخصوص سائٹ کی بندش یا تمام نشاندہی شدہ مسائل کے حل کی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔ اس لیے موجود پیش رفت کو نگرانی، مسئلہ شناسی اور corrective action کی سطح پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔

ملک میں موبائل سروس کے معیار پر صارفین کی شکایات میں کال ڈراپ، کمزور سگنل، ڈیٹا رفتار اور بجلی کی بندش کے دوران نیٹ ورک کی دستیابی جیسے معاملات شامل رہتے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق مسلسل فیلڈ نگرانی کا مقصد ٹیلی کام سروسز کی reliability، resilience اور معیار بہتر بنانا ہے۔ آئندہ اس مہم کی افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ نشاندہی شدہ تکنیکی اور انتظامی خامیاں کتنی تیزی سے دور ہوتی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں صارفین کو عملی بہتری محسوس ہوتی ہے۔