سان فرانسسکو: جرمن ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ NVision نے سائنسی جریدے نیچر میں ایک تحقیق شائع کی ہے جس میں کوانٹم کمپیوٹنگ چپس بنانے کے لیے ایسا نیا راستہ دکھایا گیا ہے جو اسمارٹ فون اور دیگر الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والے OLED ڈسپلے کی وسیع پیمانے پر رائج مینوفیکچرنگ تکنیکوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

کوانٹم کمپیوٹنگ کی عالمی دوڑ میں مائیکروسافٹ اور آئی بی ایم جیسی بڑی کمپنیاں اور متعدد اسٹارٹ اپ شامل ہیں، لیکن NVision کی یہ دریافت بنیادی طور پر طبی آلات بہتر بنانے کی تحقیق کے دوران سامنے آئی۔ کمپنی نے ایسی مشین تیار کی تھی جو مخصوص شکر کے مالیکیولز میں الیکٹران کے اسپن کو ایک سمت میں ترتیب دیتی ہے۔ اس عمل سے ان مالیکیولز کو ایم آر آئی میں تقریباً ایک ہزار گنا زیادہ نمایاں دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد سرطان کے خلیات کی شناخت میں مدد دینا تھا کیونکہ وہ صحت مند خلیات کے مقابلے میں شکر زیادہ تیزی سے استعمال کرتے ہیں۔

تازہ تحقیق میں کمپنی نے دکھایا کہ یہی بنیادی ٹیکنالوجی ایسے نامیاتی مالیکیولز پر بھی کام کر سکتی ہے جو الیکٹرانکس صنعت میں OLED ڈسپلے کے مواد سے مشابہ ہیں۔ NVision نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکڑوں ممکنہ مالیکیولز کی سیمولیشن کی، پھر تقریباً 40 امیدوار مالیکیولز کو عملی طور پر تیار کیا۔ اس عمل کے بعد ایک ایسا مالیکیول شناخت کیا گیا جسے روایتی ٹیکنالوجی سے بنی چپ پر باریک تہہ کی صورت میں جمع کرکے کوانٹم چپ کی ساخت تیار کی جا سکتی ہے۔

کمپنی نے امریکی چپ ساز HyperLight کے ساتھ شراکت کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ ابتدائی چپس تیار کی جا سکیں۔ NVision کے چیف ایگزیکٹو سیلا بروش کے مطابق کمپنی صرف خصوصی مالیکیول فروخت کرنے کے بجائے مکمل کوانٹم کمپیوٹر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں چپ کی تیاری، مالیکیول جمع کرنے اور ایرر کریکشن سمیت پورا نظام شامل ہو۔

NVision نے سرکاری اور نجی ذرائع سے مجموعی طور پر 120 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے، جن میں طبی ٹیکنالوجی سے وابستہ سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔ رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں پہلے شائع ہونے والی زیادہ رقم کی تصحیح کرتے ہوئے فنڈنگ کو 120 ملین ڈالر بتایا ہے۔

یہ تحقیق ابھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ بڑے پیمانے پر تجارتی کوانٹم کمپیوٹر فوری طور پر دستیاب ہو جائیں گے۔ کوانٹم نظاموں کو استحکام، غلطیوں کی اصلاح، اسکیلنگ اور قابل اعتماد صنعتی پیداوار جیسے بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ تاہم OLED صنعت سے مشابہ پیداواری تکنیکوں کے استعمال کا امکان اس لیے اہم ہے کہ اگر طریقہ مزید تجربات میں کامیاب رہا تو موجودہ مینوفیکچرنگ مہارت اور بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ نیچر میں شائع نتائج اس نئے طریقے کی سائنسی بنیاد پیش کرتے ہیں، جبکہ اس کی تجارتی افادیت آئندہ چپ تجربات اور مکمل نظام کی کارکردگی سے طے ہوگی۔