دکی: بلوچستان کے ضلع دکی میں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والی ایک کمپنی کے کیمپ پر مسلح افراد کے حملے کے بعد 18 مزدوروں کو اغوا کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 29 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق واقعہ نانا صاحب زیارت کے علاقے میں پیر کو پیش آیا، جہاں حملہ آور تعمیراتی کیمپ میں داخل ہوئے اور وہاں موجود مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
رپورٹ میں حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، تاہم دستیاب خبر میں کسی مخصوص تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے یا اغوا کاروں کی شناخت کی آزادانہ تصدیق کا ذکر نہیں۔ اسی لیے واقعے کی بنیادی طور پر تصدیق شدہ تفصیل یہ ہے کہ مسلح افراد نے کیمپ کو نشانہ بنایا اور 18 کارکنوں کو اغوا کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی تفصیلی سرکاری بیان یا بازیابی کی کارروائی کے نتائج سامنے آنے پر صورتِ حال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
ٹریبیون کے مطابق مغوی مزدوروں میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد سے ہے۔ یہ افراد بستی مٹھ خان، موضع اللہ آباد اور چوک چدھڑ کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ نے حکومت، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محفوظ اور فوری بازیابی کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔
تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدور بلوچستان کے بعض علاقوں میں ماضی میں بھی سکیورٹی خطرات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات میں مزدوروں کی شناخت، ان کے آبائی علاقوں اور منصوبے کی نوعیت سے متعلق معلومات حساس ہو سکتی ہیں، اس لیے جاری آپریشن یا بازیابی کی کوششوں سے متعلق غیر مصدقہ تفصیلات کو حتمی طور پر بیان کرنا مناسب نہیں۔
دستیاب رپورٹ میں کسی مزدور کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اغوا کاروں کی جانب سے کسی مطالبے کا ذکر ہے۔ اس مرحلے پر واقعے کو اغوا کی رپورٹ شدہ واردات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندان سرکاری اداروں سے معلومات اور بازیابی کے منتظر ہیں۔
واقعے کی تحقیقات اور تلاش کی کارروائیوں سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر یہ واضح ہو سکے گا کہ حملہ کس گروہ نے کیا، مزدوروں کو کہاں منتقل کیا گیا اور ان کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جب تک ایسی تصدیق سامنے نہیں آتی، حملہ آوروں کی وابستگی یا محرک کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔
