اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آبی شعبے کے اہم منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے اور مسلح افواج سے متعلق اخراجات کے لیے 84 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی مختلف وزارتوں اور اداروں کی مالی ضروریات سے متعلق تجاویز زیر غور آئیں اور متعلقہ حکام نے اخراجات، دستیاب وسائل اور منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔
آبی منصوبوں کے لیے منظور کی گئی رقم کا مقصد جاری ترقیاتی کاموں اور پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی مالی ضروریات پوری کرنا ہے۔ پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور بڑے آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مسلسل سرمایہ کاری درکار ہے۔ ان منصوبوں میں تاخیر کی صورت میں تعمیراتی لاگت بڑھنے کے ساتھ ساتھ زرعی اور توانائی شعبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، اسی لیے حکومت نے ضروری فنڈز کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ای سی سی نے مسلح افواج سے متعلق 84 ارب روپے کے مالی تقاضوں کی بھی منظوری دی۔ یہ منظوری متعلقہ سرکاری تجویز اور وزارت خزانہ کی مالی جانچ کے بعد دی گئی۔ اضافی یا تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری وفاقی بجٹ کے دوران سامنے آنے والی نئی ضروریات یا پہلے سے منظور شدہ اخراجات میں تبدیلی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کمیٹی کے فیصلے کے بعد متعلقہ وزارتیں مقررہ قواعد کے تحت فنڈز کے اجرا اور استعمال کا عمل آگے بڑھائیں گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی وفاقی کابینہ کا اہم اقتصادی فورم ہے جو سبسڈیز، درآمدات و برآمدات، توانائی، خوراک، مالی گرانٹس اور بڑے سرکاری منصوبوں سے متعلق فوری نوعیت کے فیصلے کرتا ہے۔ کمیٹی کے فیصلے عموماً وزارت خزانہ، متعلقہ انتظامی وزارتوں اور دیگر سرکاری اداروں کی سفارشات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور جہاں ضروری ہو انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے بھی پیش کیا جاتا ہے۔
حالیہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت کو ترقیاتی ضروریات اور مالی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ آبی منصوبوں کے لیے بڑی مالی منظوری سے جاری منصوبوں کو وسائل فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوگی، تاہم ان رقوم کے عملی اجرا، منصوبوں کی رفتار اور مالی سال کے دوران مجموعی بجٹ پر اثرات کا انحصار متعلقہ وزارتوں کی پیش رفت اور سرکاری مالیاتی طریقہ کار پر ہوگا۔
