اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے تقریباً 380 ارب روپے کے ضمنی گرانٹس کی منظوری دی ہے، جن میں پانچ بڑے آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے اور مسلح افواج کی مختلف ضروریات کے لیے تقریباً 84 ارب روپے شامل ہیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔

سرکاری تفصیلات اور معتبر رپورٹنگ کے مطابق آبی شعبے کے لیے منظور ہونے والی رقم دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبہ کے فور، چشمہ رائٹ بینک کینال اور کچھی کینال کے لیے مختص ہوگی۔ یہ منصوبے مالی وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے تھے۔ رقم واپڈا کی ضروریات اور ادائیگی کے منصوبے کے مطابق مرحلہ وار جاری کی جائے گی۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے تقریباً 103 ارب روپے رکھے گئے تھے، جسے منصوبوں کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ناکافی قرار دیا جا رہا تھا۔

دفاعی ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی تین سمریوں کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 84 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ ان میں 54 ارب روپے مختلف دفاعی خدمات کے منصوبوں کے لیے ہیں، جن میں شمالی اور جنوبی اسپیشل سکیورٹی ڈویژنز، پاکستان نیوی کے منصوبے اور داخلی سکیورٹی ڈیوٹیز و الاؤنسز شامل ہیں۔ مزید 1.094 ارب روپے ایک Lineage L-1000 طیارے کی فوجی بیڑے میں شمولیت اور 29.139 ارب روپے ایک دفاعی منصوبے کے لیے منظور کیے گئے۔

ای سی سی نے نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کی درخواست پر فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کے ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے لیے 3.71 ارب روپے کی الگ منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت سے حاصل 15.625 ارب روپے وزیراعظم کے آسٹیریٹی فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔

اجلاس میں پنجاب کی دو کھاد فیکٹریوں، فاطمہ اور ایگری ٹیک، کو دستیابی سے مشروط گیس کی فراہمی 31 دسمبر تک جاری رکھنے، کیمرہ رکھنے والے اسمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں دیہات کو گیس فراہم کرنے کے لیے ایک ارب روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ ای سی سی کے فیصلوں کا مقصد جاری ترقیاتی منصوبوں کے مالی خلا کو کم کرنا اور منظور شدہ سکیورٹی و توانائی ضروریات کے لیے فنڈنگ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔