اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدفی فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد کے لیے 75 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کر لی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت 14 ستمبر 2026 کے اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی تجویز منظور کی گئی، جس کا مقصد حالیہ تیز رفتار پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کم آمدنی والے اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین کو محدود مالی ریلیف دینا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی غیر تجارتی گاڑیوں کے صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے کا فائدہ دیا جائے گا۔ یہ رقم پانچ لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت کے مساوی ہے۔ 800 سی سی تک کی غیر تجارتی کاروں کے صارفین کو ہر دس دن بعد 1,000 روپے تک ریلیف ملے گا، جو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت کے حساب سے ترتیب دیا گیا ہے۔ ایک صارف یا مالک کے لیے صرف ایک گاڑی اسکیم میں شامل ہو سکے گی۔

یہ منظوری اس سے پہلے حکومت کی جانب سے اسکیم کے اعلان کے بعد عملی فنڈنگ کا مرحلہ ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی پیش کردہ سمری کے مطابق مجوزہ پروگرام تقریباً 11.8 ملین صارفین کو ہدف بناتا ہے، جن میں موٹر سائیکل، تین پہیوں والی گاڑیاں اور 800 سی سی تک کی چھوٹی کاروں کے مالکان شامل ہیں۔ ڈویژن نے تین ماہ کے لیے مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ تقریباً 75 ارب روپے لگایا تھا۔

ای سی سی نے یہ بھی طے کیا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل Fuel Pass System کو نافذ اور منظم کرے گی۔ اس نظام کا مقصد اہل صارفین کی شناخت، گاڑی کی تصدیق، رعایت کے استعمال اور ادائیگی کے عمل کو ڈیجیٹل انداز میں چلانا ہے تاکہ سبسڈی صرف مقررہ صارفین تک پہنچے۔ پٹرولیم ڈویژن کی ابتدائی تجویز میں آئی ٹی نظام، کال سینٹر، ایس ایم ایس، رجسٹریشن، ٹوکن جاری کرنے اور تھرڈ پارٹی تصدیق کے لیے الگ فنڈنگ کی ضرورت بھی بیان کی گئی تھی۔

اجلاس میں فیول ریلیف کے علاوہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی تنظیم نو کے فریم ورک کی منظوری بھی دی گئی۔ ای سی سی نے موجودہ یا براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت ڈرافٹ اپ گریڈ ایگریمنٹ کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد اگلے پانچ سال میں منصوبوں اور متعلقہ مراعات کے نفاذ و نگرانی کا طریقہ واضح کرنا ہے۔

کمیٹی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بعض مالی دعوؤں کے تصفیے کے لیے عبوری طریقہ کار کی منظوری دی اور 200,000 میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت بھی دی، جس کے ساتھ مقامی قیمتوں کے استحکام کے لیے حفاظتی شرائط رکھی گئی ہیں۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد سے متعلق ایک الگ تجویز مؤخر کر دی گئی تاکہ متعلقہ کمیٹی کی سفارشات حاصل کی جا سکیں۔

فیول اسکیم کی اصل افادیت اس کے نفاذ، اہل صارفین کی درست شناخت اور ادائیگی کے نظام کی شفافیت پر منحصر ہوگی۔ ای سی سی کی 75 ارب روپے کی منظوری مالی وسائل فراہم کرنے کا باضابطہ قدم ہے، تاہم صارفین کو ریلیف ملنے کا عملی طریقہ، رجسٹریشن اور Fuel Pass System کے مکمل آپریشنل قواعد متعلقہ وزارتوں کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہوں گے۔