اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کے پاور سیکٹر کے ریگولیٹری نظام میں اصلاحات کے لیے باقاعدہ عمل شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی تشکیل کردہ ’Power Sector Regulatory Regime – Improvement & Reforms‘ اسٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں موجودہ قواعد، سرمایہ کاری کی رکاوٹوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کے شعبے میں طویل مدتی نجی سرمایہ کاری کے لیے ریگولیٹری فریم ورک واضح، قابلِ پیش گوئی اور مستقل ہونا ضروری ہے۔ شرکا کے مطابق پالیسی اور قواعد میں غیر یقینی، اداروں کے درمیان تضاد اور فیصلوں میں تاخیر سرمایہ کاروں کی لاگت اور خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اجلاس میں موجودہ ریگولیٹری نظام کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر غور کیا گیا کہ کس طرح کارکردگی اور مسابقت بڑھائی جائے اور نجی شعبے کے لیے آپریٹنگ ماحول بہتر بنایا جائے۔ کمیٹی نے بین الاقوامی اچھی روایات سے استفادہ کرنے کی حمایت کی، تاہم ساتھ ہی کہا کہ اصلاحات پاکستان کے اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے، بجلی منڈی کی ساخت اور مقامی حالات کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جائیں۔

وزیر خزانہ نے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور اداروں کے درمیان مربوط کام پر زور دیا اور ہدایت کی کہ اصلاحاتی عمل عملی اور وقت بند ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف عمومی پالیسی مقاصد کافی نہیں بلکہ ایک مرحلہ وار روڈمیپ درکار ہے جس میں ذمہ داریاں، ترجیحات اور عمل درآمد کی واضح مدت مقرر ہو، تاکہ پیش رفت کو قابلِ پیمائش بنایا جا سکے۔

پاکستان کا بجلی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضے، بلند پیداواری لاگت، ترسیلی و تقسیمی نقصانات، وصولیوں کے مسائل، معاہداتی ذمہ داریوں اور سرمایہ کاری میں غیر یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے پیداواری معاہدوں، گردشی قرضے کے تصفیے، تقسیم کار کمپنیوں اور مارکیٹ ڈھانچے سے متعلق متعدد اقدامات کیے ہیں۔ موجودہ اسٹیئرنگ کمیٹی کا دائرہ ان مالی اصلاحات سے الگ مگر متعلقہ ریگولیٹری ماحول کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرمایہ کاری کی سہولت کے ساتھ شفافیت، مناسب حفاظتی انتظامات اور ریگولیٹری یقین دہانی برقرار رہنی چاہیے۔ نجی شعبے کی زیادہ شرکت کو صرف سرمایہ اکٹھا کرنے کے ذریعے نہیں بلکہ کارکردگی، مسابقت اور خدمات کے معیار میں بہتری سے بھی جوڑا گیا۔

پہلے اجلاس میں کسی نئے ٹیرف، نجکاری یا مخصوص سرمایہ کاری منصوبے کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔ اس مرحلے پر حکومت نے پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کی شناخت، ادارہ جاتی رابطے اور جامع اصلاحاتی روڈمیپ کی تیاری کو ترجیح دی ہے۔ آئندہ اقدامات کی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ کمیٹی کی سفارشات کو کتنی جلد قابلِ نفاذ قواعد اور فیصلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔