اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے چھ ترجیحی آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کر دی ہے، جبکہ وزارت آبی وسائل کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیموں کی مجموعی تخمینی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق تینوں بڑے ڈیموں کی مجموعی لاگت 1.28 کھرب روپے سے بڑھ کر تقریباً 3.5 کھرب روپے تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً 2.3 کھرب روپے یا 176 فیصد اضافہ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ECC اجلاس میں منظور ہونے والے 275 ارب روپے دیامر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، مہمند ڈیم، چشمہ رائٹ بینک کینال، گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم اور کچھی کینال کے تعمیراتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ رقم اہم آبی بنیادی ڈھانچے پر جاری کام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہوگی۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے اصل طلب تقریباً 450 ارب روپے تھی۔

وزارت آبی وسائل کی تفصیلات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی تخمینی لاگت 642 ارب روپے بڑھ کر 1.12 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ وزارت نے اس اضافے میں زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو ایک اہم عامل قرار دیا اور بتایا کہ نظرثانی شدہ منصوبہ جاتی دستاویز منظوری کے لیے متعلقہ فورم کو بھیجی گئی ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی تخمینی لاگت 486 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 1.74 کھرب روپے ہو گئی، جبکہ مہمند ڈیم کی لاگت کا نیا تخمینہ 666 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ 2018 میں مہمند ڈیم کی منظور شدہ لاگت 310 ارب روپے تھی۔

حکام نے تعمیراتی مواد اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو بھی منصوبوں کے مالی دباؤ میں اضافے کے عوامل میں شمار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 275 ارب روپے کی منظوری کے باوجود عملی اجرا محصولات کی وصولی اور دستیاب نقد وسائل سے منسلک رہے گا۔ اس لیے منظور شدہ رقم کو مکمل اور فوری نقد اجرا سمجھنا درست نہیں؛ اصل ادائیگیاں مالی وسائل کی دستیابی کے مطابق ہوں گی۔

اسی اجلاس میں ECC نے مسلح افواج سے متعلق تین منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 84.2 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس بھی منظور کیں۔ دیگر فیصلوں میں فرٹیلائزر پلانٹس کے لیے گیس کی فراہمی کو 31 دسمبر 2026 تک دستیابی سے مشروط جاری رکھنے، بعض پیٹرولیم حقوق کی توسیع و تجدید کے قواعد میں رعایت اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے قریب دیہات کی گیس فراہمی کے لیے ایک ارب روپے کی گرانٹ شامل تھی۔

بڑے آبی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی لاگت وفاقی ترقیاتی ترجیحات، صوبائی مالی شراکت اور مستقبل کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ موجودہ اعداد منصوبوں کی نظرثانی شدہ تخمینی لاگت اور ECC کی مالی منظوری کو ظاہر کرتے ہیں؛ منصوبوں کی حتمی لاگت اور تکمیل کے اوقات جاری تعمیر، نرخوں اور مستقبل کی منظوریوں کے باعث مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔