کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26.864 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ ڈان کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مجموعی ذخائر میں تقریباً 11 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے یہ حجم 26.754 ارب ڈالر تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خلیجی جنگ اور عالمی تیل کی بلند قیمتوں نے پاکستان سمیت درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے بیرونی ادائیگیوں کے خدشات بڑھا رکھے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک کے اپنے زرمبادلہ ذخائر ہفتہ وار بنیاد پر 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بڑھے۔ 30 اکتوبر تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.568 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ فروری میں ان کا حجم 16.568 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح فروری کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر میں پانچ ارب ڈالر کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ میں بھی زیر جائزہ ہفتے کے دوران تقریباً سات کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ذخائر میں بہتری پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں اور کرنسی مارکیٹ کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ زیادہ زرمبادلہ بفر درآمدی ادائیگیوں، قرض کی واپسی اور اچانک بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں مالیاتی شعبے کے تجزیہ کاروں کا موقف نقل کیا گیا ہے کہ موجودہ سطح شرح مبادلہ کے استحکام میں مدد دے سکتی ہے اور برآمد کنندگان کو اپنی برآمدی آمدن بروقت ملک واپس لانے کا اعتماد فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم یہ تجزیہ سرکاری ضمانت نہیں بلکہ مارکیٹ کے ماہرین کی رائے ہے۔

دوسری جانب بیرونی تجارت کا خسارہ ایک اہم خطرہ برقرار ہے۔ جولائی سے اکتوبر مالی سال 2026-27 کے دوران تجارتی خسارہ 14.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔ اسی مدت میں درآمدات تقریباً 26 ارب ڈالر اور برآمدات 11.4 ارب ڈالر رہیں۔ بعض کرنسی ماہرین کے مطابق روپے کی موجودہ قدر درآمدات کو نسبتاً سستا بنا سکتی ہے، جس سے تجارتی خسارے پر دباؤ بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔ اس لیے ذخائر میں اضافہ اور تجارتی عدم توازن کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی بیرونی کھاتے کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی، درآمدی بل اور عالمی اجناس کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ ریکارڈ سطح ایک مضبوط بفر فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے دیرپا اثر کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، سرمایہ کاری، درآمدی طلب اور بیرونی قرضوں کی آئندہ ادائیگیوں پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے ہفتہ وار اعداد و شمار فوری پوزیشن دکھاتے ہیں؛ انہیں طویل مدتی بیرونی استحکام کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

تازہ اعداد و شمار سے بہرحال یہ واضح ہے کہ زیر جائزہ ہفتے میں مرکزی بینک اور کمرشل بینک، دونوں کے ذخائر بڑھے اور ملک کے مجموعی ذخائر نئی بلند ترین سطح پر پہنچے۔ خلیجی تنازع اور تیل کی قیمتوں سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کے دوران یہ اضافہ پاکستان کے بیرونی مالی بفر کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔