اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ-I کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا ہے۔ کمیشن کے مطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر نے حلقے کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رشید بشیر ورک کے انتخابی اجتماع سے خطاب کیا۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ معاملہ فی الحال مبینہ خلاف ورزی سے متعلق ہے اور اس پر حتمی فیصلہ تحقیقات اور متعلقہ فریق کا موقف سننے کے بعد کیا جائے گا۔ کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق کی متعلقہ شق وفاقی وزرا سمیت سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد کو انتخابی مہم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکتی ہے۔ اسی بنیاد پر ضلع کے مانیٹرنگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے واقعے کی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

کمیشن نے عطا اللہ تارڑ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔ الیکشن کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ حلقے کے نتیجے کو معاملے پر حتمی فیصلے تک روکا بھی جا سکتا ہے۔ یہ ایک ممکنہ ضابطہ جاتی اقدام ہے؛ رپورٹ میں اسے پہلے سے طے شدہ سزا یا ثابت شدہ خلاف ورزی قرار نہیں دیا گیا۔

این اے 77 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 ساہیوال-VI میں ضمنی انتخابات 8 نومبر کو مقرر ہیں۔ دونوں نشستیں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ این اے 77 کی نشست پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہنے والے چوہدری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو طویل علالت کے بعد انتقال سے خالی ہوئی۔ ان کے صاحبزادے رشید بشیر ورک اس ضمنی انتخاب میں امیدواروں میں شامل ہیں۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کا مقصد سرکاری عہدے اور ریاستی وسائل کے ممکنہ استعمال سے انتخابی مقابلے پر اثرانداز ہونے کے خدشات کو محدود کرنا اور تمام امیدواروں کے لیے نسبتاً یکساں ماحول برقرار رکھنا ہے۔ اسی لیے سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد کی انتخابی سرگرمیوں سے متعلق شکایات کی نگرانی الیکشن کمیشن اور اس کے ضلعی مانیٹرنگ نظام کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اس مرحلے پر الیکشن کمیشن نے نہ تو خلاف ورزی کو ثابت شدہ قرار دیا ہے اور نہ ہی کسی حتمی سزا کا اعلان کیا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ ضلعی حکام کی رپورٹ، وفاقی وزیر کی پیشی اور کمیشن کی جانب سے دستیاب شواہد کا جائزہ ہوگا۔ حتمی نتیجہ انہی کارروائیوں کے بعد سامنے آئے گا۔