اسلام آباد: پاکستان اور سوڈان نے داخلی سلامتی اور دوطرفہ آمدورفت سے متعلق تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا سہولت، پولیس کی تربیت، انسداد دہشت گردی اور سائبر کرائم سے نمٹنے کے شعبے شامل ہیں۔ ڈان کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق یہ اتفاق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سوڈانی حکام کے درمیان رابطوں کے دوران سامنے آیا۔
دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے نکات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تجربات کا تبادلہ اور تربیتی تعاون خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سائبر جرائم کی نوعیت سرحدوں سے ماورا ہونے کے باعث معلومات کے تبادلے، ڈیجیٹل شواہد سے متعلق مہارت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی تعاون کے ممکنہ عملی شعبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ انسداد دہشت گردی میں تعاون کا مقصد سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور باہمی رابطے کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا سہولت دونوں حکومتوں کے اہلکاروں کی سرکاری آمدورفت آسان بنانے کی سمت ایک قدم ہے۔ ایسی سہولت عام شہریوں کے لیے عمومی ویزا فری سفر کے مترادف نہیں ہوتی، اس لیے اس اعلان کو اسی مخصوص دائرے میں سمجھنا ضروری ہے۔ اس سے سرکاری وفود، تربیتی ٹیموں اور دوطرفہ مذاکرات میں شریک اہلکاروں کی نقل و حرکت نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور سوڈان کے تعلقات میں دفاعی اور سفارتی رابطوں کے ساتھ داخلی سلامتی کا پہلو بھی موجود رہا ہے۔ موجودہ اتفاق ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوڈان مسلسل داخلی تنازع اور انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تعاون کے تمام عملی پروٹوکول، نفاذ کی تاریخیں یا تربیتی پروگراموں کی تعداد کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان امور کو حتمی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم دونوں جانب سے تعاون بڑھانے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلقات کو سکیورٹی اور ادارہ جاتی سطح پر مزید منظم کرنے کی کوشش جاری ہے۔
