اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنے دفتر کو انتخابی پروگرام فوری طور پر تیار کرکے جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ پانچ رکنی کمیشن نے یہ ہدایت اسلام آباد کی مقامی حکومت کے انتخابات میں مسلسل تاخیر سے متعلق کارروائی کے دوران جاری کی۔ بینچ کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی جبکہ دیگر ارکان بھی سماعت میں شریک تھے۔

کمیشن کے مختصر حکم کے مطابق انتخابات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015، الیکشنز ایکٹ 2017 اور متعلقہ قواعد کے مطابق کرائے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140 اے، 218(3)، 219 اور 220 سمیت متعلقہ قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل بروقت مکمل کرنے کے لیے تمام لازمی اقدامات تیزی سے اور قانون کے مطابق کیے جائیں۔

سماعت میں وزارت داخلہ کے سیکریٹری اور اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔ معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی منتخب مقامی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی، لیکن اس کے بعد قانونی ڈھانچے، یونین کونسلوں کی تعداد اور حلقہ بندیوں میں بار بار تبدیلیوں کے باعث نئے انتخابات منعقد نہیں ہو سکے۔ اس دوران انتخابی شیڈول کئی مرتبہ جاری اور بعد میں واپس بھی لیا گیا۔

جنوری 2026 میں اسلام آباد کی مقامی حکومت سے متعلق ایک ترمیمی آرڈیننس کے بعد نئے انتظامی ڈھانچے اور حلقہ بندیوں کی ضرورت پیدا ہوئی تھی، تاہم وہ آرڈیننس ستمبر میں اپنی مدت پوری ہونے کے بعد غیر مؤثر ہوگیا۔ الیکشن کمیشن کے سامنے یہ سوال آیا کہ انتخابات کس قانونی بنیاد پر آگے بڑھائے جائیں۔ کمیشن نے اب 2015 کے اس قانون کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو اس کے مطابق بدستور نافذ ہے۔

یہ حکم خود کسی مخصوص پولنگ تاریخ کا اعلان نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے متعلقہ دفتر کو باقاعدہ انتخابی پروگرام جاری کرنے کی ہدایت ہے۔ اس لیے حتمی شیڈول، کاغذات نامزدگی، جانچ پڑتال اور پولنگ کی تاریخیں کمیشن کے آئندہ نوٹیفکیشن سے واضح ہوں گی۔ فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اسلام آباد پانچ برس سے زیادہ عرصے سے منتخب بلدیاتی حکومت کے بغیر ہے اور آئینی و قانونی تقاضوں کے تحت مقامی نمائندگی کی بحالی مسلسل زیر بحث رہی ہے۔