کراچی: سندھ کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات سے متعلق اہم تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے کامیابی کے لیے کم از کم نمبر 40 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کر دیے ہیں، جبکہ صوبائی مسابقتی امتحانات میں شرکت کے لیے امیدواروں کی بالائی عمر کی حد 30 سال سے بڑھا کر 33 سال کر دی گئی ہے۔ فیصلے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے۔
کابینہ کے ایجنڈے کے مطابق صوبائی حکومت ایس پی ایس سی میں اصلاحات کے لیے ایک کابینہ اصلاحاتی کمیٹی بھی قائم کرے گی۔ اس کمیٹی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے ذریعے امتحانی اور انتظامی عمل کو بہتر بنانے کے امکانات پر کام کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اصلاحات کا مقصد کمیشن کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر اور جدید بنانا ہے۔
پاسنگ مارکس اور عمر کی حد میں تبدیلی کا براہ راست اثر صوبائی سرکاری ملازمتوں کے خواہش مند امیدواروں پر پڑے گا۔ 33 فیصد کم از کم معیار کی منظوری کے بعد تحریری امتحانات میں کامیابی کی حد پہلے کے مقابلے میں کم ہوگی، جبکہ عمر کی حد میں تین سال اضافے سے ایسے امیدواروں کو بھی مسابقتی امتحانات میں شرکت کا موقع ملے گا جو سابقہ حد کے تحت اہل نہیں رہتے تھے۔ متعلقہ قواعد اور عملی نفاذ کی تفصیلات صوبائی اداروں کے نوٹیفکیشن اور امتحانی شیڈول میں واضح ہوں گی۔
کابینہ نے اجلاس میں کراچی میں پراپرٹی ٹیکس وصولی بڑھانے کے منصوبے پر بھی غور اور منظوری دی۔ سرکاری منصوبے کے تحت موجودہ تقریباً 2.3 ارب روپے کی وصولی کو بتدریج 25.5 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس بیس، ریکارڈ اور وصولی کے نظام میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
یہ فیصلے صوبائی بھرتیوں اور محصولات کے نظام میں ایک وسیع اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ایس پی ایس سی سے متعلق اقدامات کا اصل اثر آئندہ اشتہارات، امتحانات اور قواعد کے نفاذ کے بعد زیادہ واضح ہوگا، جبکہ پراپرٹی ٹیکس کے ہدف کا انحصار کراچی میں جائیدادوں کے ریکارڈ، تشخیص اور وصولی کے نظام کی عملی بہتری پر ہوگا۔
