اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں دفاعی تعاون، بحری سلامتی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، صحت، تجارت، زراعت اور سیاحت سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔ معاہدوں پر دستخط مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران ہوئے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں میں منشیات اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف تعاون، سماجی تحفظ، فوڈ ریگولیٹری اداروں کے درمیان رابطہ، طبی عملے کی بھرتی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، نوجوانوں اور کھیلوں کی ترقی، فضائی رابطوں میں بہتری اور پولیس اکیڈمیوں کے درمیان تعاون بھی شامل ہے۔ سول سروس، تعلیم، ماہی گیری، ماحولیات، فنون و ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی الگ الگ تعاون کی دستاویزات پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں اقتصادی و تجارتی تعلقات، دفاعی تعاون، تربیت، تعلیم اور صحت کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کے مطابق مالدیپ کے طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں، خصوصاً طبی شعبے میں، زیر تعلیم ہیں جبکہ پاکستانی ڈاکٹر اور طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
صدر معیزو کا یہ دورہ اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا یہ گیارہ برس بعد پہلا دورہ ہے۔ دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ہونے والے معاہدے محض سیاسی رابطے تک محدود نہیں بلکہ سمندری سلامتی، ڈیجیٹل شعبوں، انسانی وسائل اور کاروباری روابط جیسے عملی شعبوں کو بھی محیط ہیں۔
مفاہمتی یادداشتیں تعاون کے فریم ورک فراہم کرتی ہیں اور ان کے عملی نتائج متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی آئندہ کارروائی، منصوبوں اور نفاذ کے طریقہ کار سے سامنے آئیں گے۔ دونوں حکومتوں نے باہمی تجارت اور ادارہ جاتی روابط بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ پاکستانی قیادت نے مالدیپ کے ساتھ دیرپا شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
