اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے متعدد حلقوں کی تفصیل میں جزوی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ اقدام اپریل 2024 سے جنوری 2026 کے درمیان ریونیو اور دیگر انتظامی یونٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد کیا گیا اور اس کے لیے الیکشن رولز 2017 کے رول 15 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
رول 15 کے تحت انتظامی یونٹس میں تبدیلی کی صورت میں کمیشن کسی حلقے کو دوبارہ بیان کر سکتا ہے، بشرطیکہ حلقے کی حدود تبدیل نہ ہوں۔ تازہ نوٹیفکیشن میں تقریباً تین سال قبل 30 نومبر 2023 کو جاری ہونے والی حلقہ بندیوں کی تفصیل کو جزوی طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل سے پہلے عوام سے اعتراضات طلب کرنے یا باقاعدہ سماعت کا مرحلہ نہیں رکھا گیا، جس کے باعث طریقہ کار کے قانونی پہلو پر سوالات اٹھے ہیں۔
الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 22(1) کمیشن کو حتمی حلقہ بندیوں میں ترمیم، ردوبدل یا تبدیلی کا اختیار دیتی ہے، تاہم اس میں انتخابی پروگرام کے نوٹیفکیشن سے کم از کم چار ماہ پہلے ایسا کرنے اور وجوہات ریکارڈ کرنے کی شرط بھی موجود ہے۔ دوسری طرف رول 15 انتظامی یونٹس کی تبدیلی کی صورت میں حلقے کی حدود برقرار رکھتے ہوئے اس کی تفصیل دوبارہ بیان کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ موجودہ معاملے میں بنیادی قانونی سوال یہی ہے کہ کی گئی تبدیلیاں محض انتظامی ناموں اور تفصیل کی درستگی ہیں یا ان کا اثر حلقوں میں شامل علاقوں کی عملی ساخت پر بھی پڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برس کے دوران مختلف ریونیو یونٹس اور انتظامی تقسیم میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، جس کے بعد انتخابی حلقوں کے سرکاری بیان کو نئے انتظامی ناموں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں اسی پس منظر کو تبدیلی کی بنیاد بنایا ہے۔
حلقہ بندی انتخابی نمائندگی کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ ہے، اس لیے کسی بھی ترمیم میں یہ واضح ہونا اہم ہوتا ہے کہ ووٹر کی انتخابی نشست، پولنگ انتظام یا حلقے کی جغرافیائی حد متاثر تو نہیں ہو رہی۔ تازہ نوٹیفکیشن کے تحت کمیشن کا مؤقف ہے کہ کارروائی رول 15 کے دائرے میں کی گئی ہے۔ تاہم اعتراضات طلب نہ کیے جانے کے معاملے پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، اور کسی باضابطہ چیلنج کی صورت میں متعلقہ فورم طریقہ کار کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

