اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں 20 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری ہونے کے ایک روز بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد کی مقامی حکومت کے قانون میں بڑی ترامیم کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی ہے، جس سے مقررہ انتخابی پروگرام کے مستقبل پر نئی غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی۔ مجوزہ قانون کے تحت موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے بجائے اسلام آباد کو تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر کارپوریشن کا الگ میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔ یونین کونسلوں کی حلقہ بندی تازہ سرکاری مردم شماری، آبادی کی مساوات اور انتظامی سہولت کو مدنظر رکھ کر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
مجوزہ ٹاؤن کارپوریشن میں متعلقہ یونین کونسلوں کے چیئرمین عمومی ارکان ہوں گے جبکہ خواتین، کسان یا مزدور، تاجر یا کاروباری نمائندے، نوجوان اور غیر مسلم ارکان کے لیے مخصوص نمائندگی تجویز کی گئی ہے۔ بل منتظمین کے اختیارات میں بھی اضافہ کرتا ہے اور انہیں ٹیکس عائد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز رکھتا ہے۔ موجودہ قانون میں منتظم کی مدت کے لیے چھ ماہ کی حد ہے، جسے مجوزہ ترمیم کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
کمیٹی میں شامل پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے خوشحال خان کاکڑ نے بل پر اختلافی نوٹ جمع کرائے ہیں۔ قانون کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ ترامیم کا مقصد مقامی سطح پر بہتر حکمرانی، خدمات کی مؤثر فراہمی اور عوامی شمولیت کو مضبوط کرنا ہے۔ تاہم چونکہ انتخابی شیڈول پہلے ہی جاری ہو چکا ہے، قانونی ڈھانچے میں اس مرحلے پر تبدیلی انتخابی تیاری اور حلقہ بندیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسلام آباد کی سابق مقامی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوئی تھی اور قانون کے تحت انتخابات 120 دن میں ہونا تھے۔ اس کے بعد وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن متعدد بار حلقہ بندیاں اور انتخابی پروگرام جاری کر چکے ہیں لیکن انتخابات ملتوی ہوتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق یونین کونسلوں اور حلقوں کی حد بندیاں چھ مرتبہ جبکہ انتخابی شیڈول چار مرتبہ جاری ہو چکا ہے۔ تازہ شیڈول میں 20 دسمبر پولنگ کی تاریخ مقرر ہے، لیکن مجوزہ ترامیم کی منظوری اور نفاذ کی صورت میں الیکشن کمیشن کو انتخابی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔

