اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کرانے کے لیے کمیشن تیار ہے، تاہم اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور کنٹونمنٹ بورڈز میں مختلف قانونی اور انتظامی معاملات ابھی حل طلب ہیں۔ یہ جائزہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی صدارت میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں پیش کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب کے لیے انتخابی شیڈول کا مسودہ صوبائی حکومت کو بھیجا جا چکا ہے۔ کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لیے فہرستیں بھی طلب کی ہیں اور صوبائی حکومت سے مسودہ شیڈول پر جلد جواب مانگا ہے۔ سندھ میں بھی بروقت بلدیاتی انتخابات کے لیے ضروری تیاری شروع کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں حلقہ بندیاں مکمل ہیں، لیکن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سے متعلق 2026 کا ترمیمی آرڈیننس ختم ہو چکا ہے۔ کمیشن نے وفاقی حکومت سے متعلقہ قانون سازی فوری مکمل کرنے کا معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو کمیشن نے کہا ہے کہ وہ موجودہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت انتخابات کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں 23 اضلاع کی حلقہ بندیاں مکمل اور سات میں جاری تھیں کہ صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون میں ترمیم کے ذریعے ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کے لیے آبادی کی حد بڑھا دی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نئی حد قانون کے نویں شیڈول میں درج کونسلوں کی تعداد سے مطابقت نہیں رکھتی، جس سے حلقہ بندی کا عمل قابل عمل نہیں رہا۔ کمیشن نے صوبائی حکومت سے شیڈول میں مناسب ترمیم کے لیے کہا ہے اور معاملہ کمیشن کے سامنے زیر سماعت ہے۔

کنٹونمنٹ علاقوں میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود ترمیم شدہ کنٹونمنٹس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کی رسمی درخواست درکار ہے۔ کمیشن کے مطابق یاد دہانیوں کے باوجود درخواست موصول نہیں ہوئی، اس لیے وزارت دفاع کو آخری خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کوئٹہ میں بھی ضلعی حدود اور متعلقہ ڈیٹا کی فراہمی کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ باقی قانونی اور انتظامی تقاضے جلد پورے کیے جائیں تاکہ بلدیاتی انتخابی عمل آگے بڑھ سکے۔