اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف سے اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ ختم کرنے اور اختلافی معاملات کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے منگل کو کشمیر چوک انڈرپاس کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں دو روز بات چیت ہوئی، مگر ان کے بقول یہ عمل نتیجہ خیز نہ بن سکا۔ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری تحریک انصاف پر عائد کی۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ دوسری جانب تحریک انصاف پہلے ہی مذاکرات کے تعطل کی وجوہات کے بارے میں مختلف موقف پیش کر چکی ہے، جن میں عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی پالیسی پر اختلاف شامل ہیں۔

شہباز شریف نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج اور لانگ مارچ معیشت، برآمدات، درآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس میں میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے اور اب معاشی سرگرمی کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ امن و امان اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الگ پریس کانفرنس میں کہا کہ مزید مذاکرات کا امکان پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ اور احتجاج ختم کرنے سے مشروط ہے۔ انہوں نے بھی مذاکرات کے تعطل پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات وفاق اور صوبے کے باہمی اتفاق اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔

موجودہ صورتحال میں حکومت کی تازہ اپیل سیاسی رابطے کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ ہے، تاہم مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی شرائط اور بنیادی اختلافات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔