ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دو الگ فائرنگ کے واقعات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چار اہلکار اور ایک پولیس کانسٹیبل جان سے گئے، جبکہ ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس نے واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

جیو نیوز کی 6 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ضیاء الدین احمد نے بتایا کہ مسلح افراد نے ابھایا پل کے قریب ایف بی آر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ حملے میں چار اہلکار جاں بحق ہوئے اور ان کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کی گئیں۔ پولیس نے فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت یا کسی تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق نہیں کی، اس لیے واقعے کے محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

اسی ضلع میں بنوں روڈ کے قریب پولیس کی ایک گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ایک کانسٹیبل شہید جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاش اور تفتیش کا عمل شروع کیا۔ دونوں واقعات ایک ہی دن پیش آئے، تاہم دستیاب معلومات میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ ان کے حملہ آور یا منصوبہ بندی ایک دوسرے سے منسلک تھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع حالیہ برسوں میں شدت پسند حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں کے باعث حساس رہے ہیں۔ رپورٹ میں ملک میں عسکریت پسند حملوں میں اضافے کے تناظر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن ایف بی آر اہلکاروں پر ہونے والی اس مخصوص فائرنگ کی ذمہ داری کسی گروہ سے منسوب نہیں کی گئی۔ اسی لیے خبر میں اسے پولیس کی ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مسلح حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کی جانب سے جاں بحق اہلکاروں کی ذمہ داری، حملے کے وقت ان کی نقل و حرکت اور تفتیشی پیش رفت سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ حملہ ہدف بنا کر کیا گیا یا موقع پر موجود سرکاری اہلکار کسی وسیع تر سکیورٹی خطرے کی زد میں آئے۔ تاحال دستیاب تصدیق شدہ معلومات صرف ہلاکتوں، مقام اور سرچ آپریشن کے آغاز تک محدود ہیں، اور کسی ممکنہ ملزم یا تنظیم کے بارے میں دعویٰ سامنے نہیں آیا۔