ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو دو الگ فائرنگ واقعات میں وفاقی بورڈ آف ریونیو کے چار اہلکار اور ہائی وے ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور واقعات کے بعد فرار ہوگئے اور متعلقہ علاقوں میں سرچ آپریشن اور تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر ضیاء الدین احمد نے ڈان کو بتایا کہ ایف بی آر کے چار اہلکاروں کو قریشی موڑ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق چار میں سے دو افراد ایف بی آر کے ساتھ کنٹریکٹ بنیاد پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔
دوسرا واقعہ مفتی محمود چوک بائی پاس کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ہائی وے ٹریفک پولیس کی موبائل پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق گاڑی چلانے والا اہلکار حملے میں شہید ہوگیا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے فوری طور پر کسی گروہ کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا اور نہ ہی ابتدائی معلومات میں حملہ آوروں کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس مرحلے پر دونوں حملوں کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی بھی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے انہیں الگ واقعات کے طور پر زیر تفتیش رکھا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع حالیہ عرصے میں سکیورٹی واقعات سے متاثر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت کے لیے حفاظتی انتظامات ایک اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ تاہم منگل کے حملوں کے محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات، ملزمان کی شناخت یا کسی تنظیم کی ذمہ داری کے بارے میں مصدقہ معلومات سامنے آنے پر ہی حملوں کے پس منظر کی واضح تصویر بن سکے گی۔

