اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی نئی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جماعت اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ اور دھرنے کی سیاست ختم کر دے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی احتجاج اور طویل دھرنے ملک کی معاشی سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔

جیو نیوز کی 6 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اتحاد نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف سے بات چیت کی جائے اور اسے احتجاجی سیاست ترک کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ شہباز شریف نے پی ٹی آئی قیادت سے کہا کہ پہلے لانگ مارچ اور دھرنا ختم کیا جائے، جس کے بعد حکومت مذاکراتی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوگی۔

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچ چکا ہے۔ جماعت نے 4 اکتوبر کو مارچ شروع کیا تھا۔ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان احتجاج روکنے کے لیے کئی دور کی بات چیت ہوئی، تاہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے اور دونوں اطراف نے تعطل کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں معاشی پہلو کو بھی نمایاں کیا۔ ان کے مطابق احتجاج سے برآمدات، درآمدات، صنعتی پیداوار اور روزمرہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزدور، انجینئر اور دیگر ملازمین بروقت فیکٹریوں اور دفاتر تک نہ پہنچ سکیں تو نقصان کسی ایک جماعت کے بجائے مجموعی طور پر ملک کو ہوگا۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس میں معاشی استحکام کے لیے محنت کی ہے اور ترقی کے عمل کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن اسے احتجاج کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ سیاسی تناؤ کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں فریق احتجاج اور مذاکرات کے طریقہ کار پر کوئی مشترکہ بنیاد تلاش کر پاتے ہیں یا نہیں۔