اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے لیے طے شدہ حلقہ بندیوں میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی، البتہ انتظامی ڈویژنوں اور متعلقہ اکائیوں میں تبدیلی کے بعد بعض حلقوں کی جغرافیائی تفصیل کو قواعد کے مطابق دوبارہ بیان کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن نے اس عمل کو نئی حلقہ بندی کے بجائے موجودہ حدود کی انتظامی وضاحت قرار دیا ہے۔

ڈان کی 24 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن رولز 2017 کے رول 15 کے تحت، اگر کسی ضلع، تحصیل یا دوسری انتظامی اکائی کی ساخت یا نام میں تبدیلی ہو تو کمیشن موجودہ انتخابی حلقے کی تفصیل کو نئی انتظامی صورت حال کے مطابق دوبارہ بیان کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس سے 2024 میں طے شدہ حلقے کی بنیادی حدود یا نشستوں کی تقسیم تبدیل نہیں ہوتی۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انتظامی تبدیلیوں کے بعد حلقوں کی نئی تفصیل کے قانونی اور سیاسی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی انتظامی یونٹ کے نام، درجہ یا داخلی تقسیم میں تبدیلی خود بخود مکمل نئی حلقہ بندی کا تقاضا نہیں کرتی، بشرطیکہ انتخابی حلقے کی اصل جغرافیائی ساخت برقرار ہو۔

کمیشن کے مؤقف کے مطابق 'ری ڈسکرپشن' کا مقصد انتخابی ریکارڈ کو موجودہ انتظامی نقشے سے ہم آہنگ رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے کو نئی تحصیل یا ڈویژن میں شامل کیا جائے لیکن اس کا انتخابی حلقہ وہی رہے تو حلقے کی تحریری شناخت کو نئی انتظامی اصطلاحات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی ازسرنو تقسیم یا مکمل delimitation سے مختلف ہے۔

حلقہ بندیوں کا معاملہ پاکستان میں سیاسی طور پر حساس رہا ہے کیونکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی جغرافیائی حدود براہ راست انتخابی نمائندگی سے جڑی ہوتی ہیں۔ اسی لیے نئی حلقہ بندی، حدود کی معمولی تکنیکی تصحیح اور انتظامی ناموں کی تبدیلی کے درمیان قانونی فرق اہم ہے۔ کمیشن نے اپنی تازہ وضاحت میں اسی فرق پر زور دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا یہ بیان ادارے کا سرکاری قانونی مؤقف ہے۔ اگر کسی مخصوص حلقے کی حدود یا ووٹرز کی تقسیم سے متعلق تنازع سامنے آتا ہے تو اس کا حتمی جائزہ متعلقہ نوٹیفکیشن، انتخابی قوانین اور دستیاب قانونی فورمز پر ہوگا۔ فی الحال کمیشن نے عمومی طور پر کہا ہے کہ 2024 کی منظور شدہ حلقہ بندیوں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔