اسلام آباد: پاکستان نے روایتی مشین ریڈایبل پاسپورٹس (ایم آر پیز) کا اجرا بند کر دیا ہے اور ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر کے ساتھ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں اب صرف ای پاسپورٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق نئی پالیسی 23 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوئی ہے۔

جیو نیوز نے متعلقہ حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تقریباً 22 سال تک استعمال ہونے والا مشین ریڈایبل پاسپورٹ نظام مرحلہ وار ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم جن شہریوں کے پاس پہلے سے ایم آر پی موجود ہے وہ اسے اس کی درج شدہ میعاد ختم ہونے تک استعمال کر سکیں گے، اس لیے موجودہ پاسپورٹس فوری طور پر منسوخ نہیں ہوئے۔

حکام کے مطابق موجودہ مشین ریڈایبل پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی اسی شکل میں تجدید نہیں ہوگی اور درخواست گزار کو ای پاسپورٹ حاصل کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کا اطلاق پاکستان کے اندر پاسپورٹ دفاتر کے علاوہ بیرون ملک پاکستانی مشنز پر بھی ہوگا، جس سے نئے پاسپورٹس کے اجرا کا نظام ایک ہی الیکٹرانک معیار کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔

پاکستان نے ای پاسپورٹ کا اجرا مارچ 2022 میں ابتدائی طور پر سفارت کاروں اور اسلام آباد کے رہائشیوں کے لیے شروع کیا تھا۔ اگست 2023 میں عام پاکستانی شہریوں کو مشین ریڈایبل اور ای پاسپورٹ میں سے انتخاب کی سہولت دی گئی تھی۔ اب نئے فیصلے کے بعد یہ اختیاری مرحلہ ختم ہوگیا اور نئی درخواستوں کے لیے ای پاسپورٹ واحد جاری ہونے والا فارمیٹ بن گیا ہے۔

ای پاسپورٹس میں الیکٹرانک چِپ اور مشین سے پڑھی جانے والی شناختی خصوصیات شامل ہوتی ہیں، جن کا مقصد سفری دستاویز کی تصدیق اور سرحدی نظاموں کے ساتھ مطابقت بہتر بنانا ہے۔ تاہم کسی مخصوص ملک میں داخلے، ویزا یا خودکار امیگریشن گیٹس کی سہولت کا انحصار اس ملک کے اپنے قوانین اور نظام پر رہتا ہے۔

وزارت داخلہ نے تقریباً ایک ہفتہ قبل قومی اسمبلی میں بھی بتایا تھا کہ ایم آر پیز کا اجرا جلد بند کر دیا جائے گا۔ تازہ عمل درآمد کے بعد شہریوں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ پہلے سے جاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ اپنی میعاد تک قابل قبول رہے گا، جبکہ نئی درخواست یا میعاد ختم ہونے کے بعد ای پاسپورٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔