قاہرہ: مصر کے صوبہ جیزہ میں اتوار کو دو مسافر ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 88 زخمی ہوگئے۔ مصری حکام کے مطابق حادثہ دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں العیاط کے علاقے میں پیش آیا، جہاں تصادم کے بعد کئی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور امدادی ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔
مصر کی ریلوے اتھارٹی کے مطابق جیزہ سے فیوم جانے والی ایک ٹرین نے قاہرہ سے جنوبی شہر اسوان کی جانب جانے والی دوسری ٹرین کے پچھلے حصے کو ٹکر ماری۔ وزارت صحت نے ابتدائی سرکاری اعداد میں چار مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ 88 زخمیوں کو جیزہ اور اطراف کے اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ سرکاری میڈیا نے اس سے پہلے زخمیوں کی تعداد 120 بتائی تھی، تاہم وزارت صحت کا بعد کا شمار 88 زیر علاج زخمیوں کا تھا۔
حادثے کے بعد بھاری مشینری اور کرینیں متاثرہ بوگیوں اور ملبے کو ہٹانے کے لیے استعمال کی گئیں۔ ریلوے حکام نے حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس مرحلے پر کسی مخصوص تکنیکی خرابی یا انسانی غفلت کو حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے ذمہ داری کے بارے میں کوئی نتیجہ تحقیق مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
صدر عبدالفتاح السیسی نے حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ دار کا تعین کیا جائے۔ العیاط کا علاقہ ماضی میں بھی سنگین ریلوے حادثات کا مقام رہا ہے؛ 2002 میں اسی خطے میں ایک مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 370 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2009 میں بھی متعدد حادثات میں درجنوں جانیں گئی تھیں۔
تقریباً 11 کروڑ آبادی والے مصر میں ریلوے روزمرہ نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن پرانے نیٹ ورک پر مہلک حادثات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومت گزشتہ دہائی میں شاہراہوں، تیز رفتار ریل اور دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کر چکی ہے، تاہم روایتی ریلوے نظام کے بڑے حصے کی جدید کاری بدستور ایک اہم چیلنج ہے۔ تازہ حادثے میں مصدقہ پیش رفت چار ہلاکتیں، 88 زخمی اور سرکاری تحقیقات کا آغاز ہے؛ حادثے کی اصل وجہ تحقیق کے نتائج کے بعد ہی واضح ہوگی۔

