شوشا: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے حالیہ عوامی سفارتی کشیدگی کے بعد دونوں اتحادی ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا باہمی اتحاد برقرار رہے گا۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اردوان آذربائیجان کے یومِ فتح کے موقع پر فزولی پہنچے، جہاں صدر علیوف اور خاتون اول مہربان علیوا نے ان کا استقبال کیا، بعد میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اردوان نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے معروف تصور “ایک قوم، دو ریاستیں” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تاریخ سے طاقت لینے والا یہ اتحاد مستقبل میں بھی قائم رہے گا۔ صدر علیوف نے بھی کہا کہ آذربائیجان اور ترکیہ مل کر زیادہ مضبوط ہیں اور ترک صدر کا دورہ دونوں ملکوں کے اتحاد کا اظہار ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب ستمبر میں آذربائیجان کے اسکول یونیفارم قواعد میں تبدیلی اور کلاس رومز میں اسلامی حجاب پر عملی پابندی کے معاملے نے دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف پیدا کیا تھا۔ ترک حکمران جماعت سے وابستہ ایک صدارتی مشیر نے باکو سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، جسے آذربائیجان کی حکمران جماعت نے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ بعد میں اردوان نے مذکورہ مشیر کو عہدے سے ہٹا دیا، تاہم علیوف 30 اکتوبر کو انقرہ میں ترک ریاستوں کے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلاف صرف حجاب کے معاملے تک محدود نہیں سمجھا جا رہا۔ آذربائیجان کی اسرائیل کے ساتھ قریبی دفاعی اور اقتصادی شراکت داری، ترکیہ کے اسرائیل سے شدید اختلافات اور انقرہ کی آرمینیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں بھی پس منظر میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ترکیہ آذربائیجانی تیل اور گیس کی مغربی منڈیوں تک ترسیل کا اہم راستہ ہے اور دونوں ملک فوجی و توانائی شعبوں میں گہرے طور پر منسلک ہیں۔

8 نومبر آذربائیجان میں 2020 کی جنگ کے دوران شوشا پر کنٹرول حاصل کرنے کی یاد میں یومِ فتح کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تازہ ملاقات کا مرکزی سیاسی پیغام یہی رہا کہ حالیہ اختلافات کے باوجود انقرہ اور باکو اپنے اسٹریٹجک اتحاد کو کمزور ہوتا ہوا نہیں دکھانا چاہتے۔