قاہرہ: مصر کی پارلیمان نے مسلح افواج کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے یمن کے حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے دوران قاہرہ کے ممکنہ علاقائی کردار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ارکانِ پارلیمان اور مقامی میڈیا کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے ایوان سے اس اختیار کی منظوری مانگی تھی تاکہ ریاض کی درخواست کی صورت میں سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع میں مدد دی جا سکے۔
سرکاری پارلیمانی بیان کے مطابق کم از کم دو تہائی ارکان نے اقدام کی حمایت کی۔ السیسی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ ممکنہ مصری کردار سعودی عرب کے دفاع تک محدود ہو گا اور اس کا مقصد یمن پر حملہ کرنا نہیں۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ موجودہ منظوری براہِ راست کسی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان نہیں بلکہ ضرورت اور سعودی درخواست کی صورت میں دفاعی مدد کے لیے قانونی و سیاسی اختیار فراہم کرتی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثی حملوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور بحیرہ احمر کے جنوبی دروازے باب المندب کی سلامتی پر بھی تشویش بڑھی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مصر کی نہر سویز تک پہنچنے والے بین الاقوامی بحری راستے کے لیے اہم ہے، اس لیے خطے میں طویل عدم استحکام قاہرہ کے اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔
مصر نے ایران اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی ہے، تاہم وہ حالیہ مرحلے میں براہِ راست جنگی کارروائی سے دور رہا تھا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا رکن نہیں۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کہہ چکے ہیں کہ اس معاہدے میں شمولیت قاہرہ کے زیرِ غور ہے۔
مصر 2015 میں یمن جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سعودی قیادت والے اتحاد کے ساتھ زیادہ تر بحری کردار میں شامل ہوا تھا اور بحیرہ احمر کے راستوں کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجے تھے۔ مصر کی 1960 کی دہائی میں یمن میں مہنگی فوجی مداخلت کی تاریخ بھی ہے، جس کے باعث بیرونِ ملک بڑے زمینی آپریشنز کے بارے میں قاہرہ روایتی طور پر محتاط رہا ہے۔
سعودی عرب مصر کا اہم سیاسی، مالی اور توانائی شراکت دار ہے۔ موجودہ پارلیمانی منظوری دونوں ممالک کے سکیورٹی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جا سکتی ہے، لیکن عملی فوجی تعیناتی، اس کی نوعیت اور مدت کا انحصار سعودی درخواست اور مصری حکومت کے بعد کے فیصلوں پر ہو گا۔ قاہرہ نے ساتھ ہی یمن تنازع کے سفارتی حل کے مواقع تلاش کرنے کی حمایت بھی جاری رکھی ہے۔
