واشنگٹن: کلیسائی جنسی استحصال کے متاثرین نے نیویارک کی کیتھولک آرچ ڈایوسیس کے ساتھ 800 ملین ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وکلا کے مطابق اس معاہدے کا مقصد تقریباً 1,300 افراد کے ان دعووں کو حل کرنا ہے جن میں پادریوں یا چرچ سے وابستہ افراد کی جانب سے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
رائٹرز کے مطابق نیویارک آرچ ڈایوسیس نے مئی میں اس ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی اور اب متاثرین کی جانب سے بھی معاہدے کی منظوری سامنے آئی ہے۔ یہ امریکا میں کلیسائی جنسی استحصال کے مقدمات سے متعلق بڑے مالی تصفیوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2024 میں لاس اینجلس آرچ ڈایوسیس نے 880 ملین ڈالر کے ایک بڑے تصفیے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد نیویارک کا موجودہ معاہدہ رقم کے لحاظ سے نمایاں ترین مثالوں میں شامل ہے۔
متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم جیف اینڈرسن اینڈ ایسوسی ایٹس نے اس پیش رفت کو انصاف کی کوشش میں اہم مرحلہ قرار دیا ہے۔ فرم تقریباً 300 متاثرین کی نمائندگی کرتی ہے۔ معاہدے کے تحت آرچ ڈایوسیس نے چرچ میں جنسی جرائم سے متعلق افراد کے بارے میں دستاویزات جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے ماضی کے واقعات اور ادارہ جاتی ردعمل کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
اس تصفیے سے آرچ ڈایوسیس دیوالیہ پن کی کارروائی سے بچ سکتی ہے، جبکہ متاثرین کو چرچ کی انشورنس کمپنیوں کے خلاف اضافی مالی دعوے آگے بڑھانے کی گنجائش بھی دی گئی ہے۔ یہ پہلو اہم ہے کیونکہ 800 ملین ڈالر کی رقم تمام ممکنہ قانونی راستوں کو لازماً ختم نہیں کرتی۔ ہر دعوے کی ادائیگی اور دیگر قانونی شرائط متعلقہ معاہدوں اور عدالتی عمل کے مطابق طے ہوں گی۔
امریکا کی کئی ریاستوں، جن میں نیویارک بھی شامل ہے، نے حالیہ برسوں میں ایسے قوانین متعارف کرائے جن سے بچپن میں جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے افراد کو کئی دہائیوں پرانے واقعات پر بھی محدود مدت کے لیے مقدمات دائر کرنے کا موقع ملا۔ اس کے نتیجے میں کیتھولک چرچ کے مختلف اداروں کے خلاف بڑی تعداد میں دعوے سامنے آئے اور اربوں ڈالر کے تصفیے ہوئے۔
یہ خبر کسی نئے مجرمانہ فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ سول دعووں کے مالی اور قانونی تصفیے سے متعلق ہے۔ انفرادی الزامات، ذمہ داری اور مجرمانہ حیثیت مختلف مقدمات میں الگ الگ قانونی معیار کے تحت دیکھی جاتی ہے۔ موجودہ معاہدہ بنیادی طور پر متاثرین کے اجتماعی دعووں کے حل اور متعلقہ دستاویزات کے اجرا کی جانب پیش رفت ہے۔

