روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے روسی زیر قبضہ شہر اولیشکی میں انسانی امداد پہنچانے اور شہریوں کے انخلا میں سہولت دینے کے لیے ایک محدود اور مقامی جنگ بندی پر عمل شروع کر دیا ہے۔ دونوں فریقوں نے منگل 27 اکتوبر کو اس انتظام کی تصدیق کی، جس کا دائرہ مخصوص انسانی آپریشن تک محدود ہے اور اسے ملک گیر جنگ بندی نہیں سمجھا جا رہا۔

رائٹرز کے مطابق اولیشکی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کے باعث انسانی صورت حال پر تشویش بڑھ گئی تھی۔ یوکرین کے انسانی حقوق کے کمشنر دمترو لوبینٹس نے کہا کہ انتظام کے لیے امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور روسی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراتوفا کے ساتھ رابطہ کاری ہوئی۔ روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ انسانی آپریشن میں مدد کے لیے ماسکو وقت کے مطابق صبح چار بجے سے خرسون کی سمت گولہ باری روک دی جائے گی۔

مقامی جنگ بندی کے باوجود یوکرین کے دوسرے علاقوں میں لڑائی اور فضائی حملے جاری رہے۔ رائٹرز کے مطابق کیف پر روسی حملوں سے سدرن برج اور میٹرو سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور آمدورفت متاثر ہوئی۔ دارالحکومت پر میزائل حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ خارکیف اور پاولوہراد میں بھی حملوں اور جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔

دوسری جانب روس کے برائنسک خطے میں ڈرون حملوں سے ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، جبکہ روسی زیر کنٹرول زاپوریژیا کے علاقے میں ایک بس پر حملے میں بھی ہلاکت اور متعدد زخمیوں کی اطلاع دی گئی۔ جنگی حالات میں دونوں فریق ایک دوسرے کے حملوں اور نقصانات کے بارے میں الگ الگ دعوے کرتے ہیں؛ فوری طور پر ہر تفصیل کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔

اولیشکی کا انتظام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کی قیادت میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یوکرینی، روسی اور امریکی مذاکرات کار نومبر کے اوائل میں ابوظہبی میں مزید بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم اس ملاقات کے ممکنہ نتائج یا کسی وسیع جنگ بندی کے امکانات کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

مقامی انسانی جنگ بندی کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ شدید لڑائی کے دوران شہریوں تک رسائی کے لیے فریقین کے درمیان محدود عملی تعاون کی مثال فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے محاذوں پر جاری حملے واضح کرتے ہیں کہ یہ انتظام وسیع امن معاہدے یا جنگ کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے۔