
روس اور یوکرین نے اولیشکی میں انسانی امداد کے لیے مقامی جنگ بندی شروع کر دی
روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے روسی زیر قبضہ شہر اولیشکی میں امداد اور انخلا کی سہولت کے لیے محدود جنگ بندی شروع کی، تاہم دوسرے محاذوں پر حملے جاری رہے۔
27 اکتوبر، 2026روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے روسی زیرِ قبضہ شہر اولیشکی میں خوراک، ادویات پہنچانے اور شہریوں کے انخلا کے لیے محدود اور مقامی انسانی جنگ بندی کا نفاذ 27 اکتوبر کو تصدیق کیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ یہ انتظام مخصوص انسانی آپریشن تک محدود ہے اور اسے ملک گیر جنگ بندی نہیں سمجھا جائے گا؛ روسی وزارتِ دفاع نے خرسون کی سمت صبح چار بجے سے گولہ باری روکنے کا اعلان کیا۔ مقامی جنگ بندی کے باوجود دیگر محاذوں پر لڑائی جاری رہی — کیف پر میزائل/فضائی حملوں سے انفراسٹرکچر کو نقصان، خارکیف اور پاولوہراد میں جھڑپیں، روس کے برائنسک خطے میں ڈرون حملے اور زاپوریژیا کے زیرِ کنٹرول علاقے میں بس پر حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ فریقین ایک دوسرے کے حملوں کے بارے میں الگ الگ دعوے کر رہے ہیں اور ہر تفصیل کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں؛ امریکا کی قیادت میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور نومبر کے اوائل میں ابو ظہبی میں مزید بات چیت کی تیاری رپورٹ کی گئی ہے۔