امریکا اور کینیڈا کے حکام کینیڈین اسٹیل اور گاڑیوں پر عائد امریکی درآمدی محصولات میں ممکنہ نرمی کے لیے ایک نئے تجارتی انتظام پر بات چیت کر رہے ہیں۔ رائٹرز نے دو امریکی اور چار کینیڈین ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں حکومتیں اگست میں تجارتی مذاکرات کے تعطل کے بعد تعلقات بہتر بنانے اور محصولات سے متعلق اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا مرکز امریکی تجارتی قانون کے سیکشن 232 کے تحت عائد ٹیرف ہیں۔ ان میں کینیڈین اسٹیل پر 50 فیصد تک اور گاڑیوں پر 25 فیصد تک محصولات شامل ہیں۔ فریقین ممکنہ طور پر ایسے طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں جس سے ان محصولات میں جزوی یا مشروط ریلیف دیا جا سکے۔ چونکہ مذاکرات جاری ہیں، اس لیے زیر غور تجاویز کو حتمی حکومتی فیصلہ یا نافذ شدہ تجارتی معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکا اور کینیڈا کی معیشتیں آٹو مینوفیکچرنگ، دھاتوں، توانائی اور سرحد پار سپلائی چینز کے ذریعے گہرائی سے منسلک ہیں۔ اسٹیل اور گاڑیوں پر زیادہ ٹیرف دونوں ملکوں کے صنعت کاروں، پرزہ ساز کمپنیوں اور صارفین کے لیے لاگت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی ممکنہ رعایت کی شرائط کاروباری شعبوں کے لیے اہم ہوں گی، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جن کی پیداوار دونوں جانب پھیلی ہوئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب دونوں حکومتیں حالیہ مہینوں میں خراب ہونے والے تجارتی تعلقات کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ذرائع پر مبنی رپورٹ میں ممکنہ معاہدے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، لیکن سرکاری سطح پر تمام شرائط کی حتمی توثیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ اس لیے کسی مخصوص ٹیرف کی منسوخی یا نئی شرح کے بارے میں حتمی نتیجہ باضابطہ اعلان کے بعد ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔
سیکشن 232 کے محصولات امریکا قومی سلامتی کی بنیاد پر بعض درآمدات پر عائد کرتا ہے۔ کینیڈا طویل عرصے سے امریکی منڈی کے لیے اہم اسٹیل اور آٹو سپلائر رہا ہے، اس لیے محصولات میں تبدیلی شمالی امریکا کی صنعتی تجارت پر وسیع اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ اگست کے تعطل کے بعد واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ اگر اختلافات برقرار رہے تو موجودہ محصولات اور ان سے پیدا ہونے والی کاروباری غیر یقینی بھی جاری رہ سکتی ہے۔

