دبئی: متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک خراب آئل ٹینکر سے ہونے والا تیل کا رساؤ مزید پھیل گیا ہے، جس کے بعد حکام نے اضافی ساحلی علاقوں کو بند کر دیا اور ماحولیاتی اثرات کی نگرانی تیز کر دی ہے۔ ڈان میں شائع رائٹرز رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے کوپرنیکس سیٹلائٹ نیٹ ورک کی 24 اکتوبر کی تصاویر میں تیل کی تہیں ام القوین کے شمالی ساحل کے قریب اور سمندر میں پھیلتی دکھائی دیتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ ٹینکر کو پہلے سمندری حادثے کے بعد نقصان پہنچا تھا اور اس سے خارج ہونے والے تیل نے خلیجی ساحلی پانیوں میں آلودگی پیدا کی۔ سیٹلائٹ مشاہدات نے رساؤ کے رقبے میں گزشتہ چند دنوں کے دوران اضافے کی نشاندہی کی، جس کے بعد ساحلوں کی بندش کا دائرہ بڑھایا گیا۔ حکام کی ترجیح تیل کو مزید ساحلی علاقوں تک پہنچنے سے روکنا اور صفائی کی کارروائی کو منظم کرنا ہے۔
تیل کے سمندری رساؤ سے ساحلی ماحولیاتی نظام، مچھلیوں، پرندوں، مینگرووز اور تفریحی ساحلوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ نقصان کی اصل شدت کا تعین رساؤ کی مقدار، تیل کی نوعیت، سمندری لہروں، ہوا کے رخ اور صفائی کی رفتار پر ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تمام ماحولیاتی نقصانات کا حتمی تخمینہ سامنے نہیں آیا، اس لیے ممکنہ اثرات اور تصدیق شدہ نقصان میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کی مختلف اماراتی اور وفاقی ایجنسیاں ساحلی نگرانی اور صفائی میں شامل ہیں۔ متاثرہ ساحلوں کی عارضی بندش عوام کو آلودہ پانی سے دور رکھنے اور صفائی ٹیموں کو کام کی جگہ فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ ساحل کب دوبارہ کھولے جائیں گے، اس کا انحصار پانی اور ریت کے معیار کی جانچ اور مقامی حکام کی منظوری پر ہوگا۔
خلیج دنیا کے مصروف ترین توانائی اور بحری تجارتی راستوں میں شامل ہے، جہاں تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد روزانہ سفر کرتی ہے۔ اس لیے کسی ٹینکر حادثے کے ماحولیاتی اثرات کے ساتھ جہاز رانی کی حفاظت اور ہنگامی ردعمل کے نظام بھی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ موجودہ واقعے میں وسیع تر بحری آمدورفت کی مکمل بندش کی اطلاع نہیں دی گئی۔
کوپرنیکس کی تصاویر آلودگی کے پھیلاؤ کی آزاد سیٹلائٹ نگرانی فراہم کرتی ہیں، تاہم رساؤ کی حتمی مقدار اور مکمل صفائی کے لیے زمینی اور سمندری سروے ضروری ہوں گے۔ حکام کی آئندہ رپورٹس سے یہ واضح ہوگا کہ کتنی ساحلی پٹی متاثر ہوئی اور ماحولیاتی بحالی میں کتنا وقت درکار ہوگا۔

