نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید مستقل نشستیں پیدا کرنے اور ویٹو کے اختیار کو نئے ارکان تک پھیلانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے موجودہ عدم مساوات مزید گہری اور کونسل کے مفلوج ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کا موقف جنرل اسمبلی میں ویٹو کے استعمال سے متعلق بحث کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے کونسلر گل قیصر سروانی نے پیش کیا۔
پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کی جامع، جمہوری اور مساوی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ویٹو کے غلط یا حد سے زیادہ استعمال سے کونسل کی مؤثریت اور اقوام متحدہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مستقل ارکان کے درمیان تزویراتی رقابتیں اور محدود قومی مفادات کئی مواقع پر عالمی امن و سلامتی سے متعلق اجتماعی اقدام میں رکاوٹ بنے ہیں۔
پاکستان نے توسیع شدہ سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کی تشکیل کی مخالفت کی۔ ویٹو کے مستقبل سے متعلق اسلام آباد کا موقف یہ ہے کہ ترجیحاً اسے ختم کیا جائے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ویٹو کا دائرہ مزید وسیع نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستانی وفد نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کی حمایت بھی دہرائی، جس کے تحت سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کا راستہ کھلتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد ویٹو کے استعمال پر سیاسی جواب دہی بڑھانا اور عالمی رکنیت کو متعلقہ فیصلوں پر بحث کا موقع دینا ہے۔
سروانی نے کہا کہ ویٹو پر قدغن سے متعلق کوئی بھی اقدام اقوام متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ پاکستان نے منتخب ارکان کی نمائندگی اور کردار بڑھانے کو بھی اصلاحاتی عمل کا اہم حصہ قرار دیا، تاکہ کونسل کی فیصلہ سازی زیادہ جمہوری ہو اور مستقل ارکان کے خصوصی اختیار پر مؤثر نگرانی پیدا ہو سکے۔
یہ پاکستانی پالیسی کا نیا مستقل رکن بننے کا دعویٰ نہیں بلکہ سلامتی کونسل کے اصلاحاتی ماڈل سے متعلق موقف ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے ایسی توسیع کی حمایت کرتا آیا ہے جس میں غیر مستقل اور منتخب نمائندگی بڑھے، جبکہ نئے مستقل مراعات یافتہ ارکان پیدا نہ کیے جائیں۔ تازہ بیان میں اسی اصول کو ویٹو کے استعمال اور جواب دہی کے وسیع تر مباحثے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

