برازیلیا: برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کر کے چوتھی مدت کے لیے ملک کی قیادت کا حق حاصل کر لیا ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق لولا نے اتوار کے رن آف میں 51.7 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے دائیں بازو کے حریف فلیویو بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔

یہ کامیابی لولا کے طویل سیاسی کیریئر میں ایک اور غیر معمولی مرحلہ ہے۔ سابق ٹریڈ یونین رہنما اس سے پہلے بھی برازیل کی صدارت کر چکے ہیں اور اب 81 برس کی عمر کے قریب اپنی نئی مدت شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انتخابی نتیجہ نسبتاً کم فرق سے آیا، جو برازیلی معاشرے میں سیاسی تقسیم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

نئی مدت میں لولا کو ایک ایسے کانگریس کا سامنا ہوگا جہاں ان کے اتحادیوں کو ہر قانون سازی کے لیے وسیع سیاسی مفاہمت درکار ہو سکتی ہے۔ برازیل کا صدارتی نظام صدر کو اہم انتظامی اختیارات دیتا ہے، لیکن بجٹ، ٹیکس اور کئی بڑے اصلاحاتی اقدامات کے لیے کانگریس کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اسی لیے انتخابی کامیابی کے باوجود نئی حکومت کے پالیسی ایجنڈے کا نفاذ اتحادی سیاست پر منحصر رہے گا۔

برازیل کو کمزور سرکاری مالیات، معاشی نمو کی رفتار، سماجی اخراجات اور قرض و بجٹ کے توازن جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔ لولا کی سابق حکومتیں غربت میں کمی اور سماجی پروگراموں کے لیے جانی جاتی ہیں، جبکہ ناقدین مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری اخراجات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ نئی مدت میں انہیں سماجی وعدوں اور مالی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

خارجہ پالیسی میں امریکا کے ساتھ تعلقات، چین کے ساتھ تجارت، برکس میں برازیل کا کردار اور ماحولیاتی سفارت کاری اہم موضوعات رہیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی اور سیاسی اختلافات بھی برازیلیا کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔ ایمیزون کے تحفظ اور موسمیاتی پالیسی کے باعث برازیل کی عالمی سفارتی اہمیت بھی برقرار ہے۔

رن آف کے اعداد انتخابی نتیجے کی واضح سمت دکھاتے ہیں، تاہم نئی حکومت کی کامیابی کا انحصار صرف انتخابی مینڈیٹ پر نہیں ہوگا۔ منقسم ووٹر، کانگریس میں پیچیدہ اتحاد، مالی دباؤ اور بین الاقوامی ماحول لولا کی چوتھی مدت کے بنیادی امتحانات ہوں گے۔ آئندہ کابینہ اور حکومتی ترجیحات کے اعلان سے نئی مدت کی عملی سمت مزید واضح ہوگی۔